بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

انسٹالمنٹ پر خریدے گئے فلیٹ میں زکوٰۃ کا حکم


سوال

 میں نے ایک فلیٹ  تین سال  کی ماہانہ  اقساط پر خریدا ہے کل قیمت 10900000 روپے ہے جس کی تیس فیصد کے حساب سے 3270000 اور ایک ماہ کی قسط 181870 روپے میں ادا کرچکا ہوں۔ اس فلیٹ  جس کو  میں اپنے رہنے کے لیے خرید رہا ہوں کیااس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں اگر زکوٰۃ واجب ہے تو کون سی رقم پر واجب ہے  ،عمارت زیر تعمیر ہے اور  تین سال میں مکمل ہوگی ،فلیٹ تین سال بعد حوالہ کیا جائے گا۔

جواب

         واضح رہے کہ مقررہ قیمت کے عوض   فلیٹ بک  کروانا شرعا  عقد استصناع ہے  اس عقد میں    بک کروانے والےیعنی خریدار کا  اس فلیٹ پر باقاعدہ قبضہ ہوجانے سے پہلے  وہ خریدار  کی ملکیت شمار نہیں ہوتی ہےنیز جو قسط صانع یعنی بنانے والے کے پاس جمع کی گئی وہ بھی  خریدار کی ملکیت سے نکل کر صانع کی  ملکیت  بن جاتی ہےلہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق ااگر فلیٹ  کی حوالگی  تین سال بعد ہوگی تو  خریدار کی طرف سے   جتنی رقم جمع کی گئی ہے   اس  رقم  کی زکٰوۃ اس کے ذمہ واجب نہ ہوگی ۔

 

(ولا يتعين) المبيع (له) أي للآمر (بلا رضاه فصح بيع الصانع) لمصنوعه (قبل رؤية آمره) ولو تعين له لما صح بيعه (وله) أي للآمر (أخذه وتركه) بخيار الرؤية ومفاده أنه لا خيار للصانع بعد رؤية المصنوع له وهو الأصح نهر۔(الدرالمختار علی صدر رد المحتار ،كتاب البيوع،مطلب في الإستصناع،ج:7،ص:476)


فتویٰ نمبر : 9112/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں