بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کان میں دوائی ڈالنے سے روزے کا حکم


سوال

کان میں دوائی  ڈالنے سے روزہ ٹوٹتا ہے  یانہیں؟

جواب

           علم تشریح لابدان کی روشنی میں کان کے بیرونی حصے سے حلق تک رسائی   کا کوئی راستہ نہیں پایا جاتا ،بیرونی حصے اور درمیانی حصے کے ما بین پردہ حائل ہے البتہ پردہ جب کبھی زخم سے متاثر ہو تو  درمیان کا ن  کاراستہ کھل سکتا ہے،پھردرمیان کان کا حلق اور ناک کے ساتھ تعلق قائم ہے لہٰذا  پردہ جب یقینی طور پر سالم ہو اور اس میں دوائی یا پانی  وغیرہ داخل ہو جائےتو وہ بیرونی حصے تک محدود رہتا ہے  جس کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور  اگر کان کا پردہ  یقینی  طور پر پھٹا ہو یا اس میں سوراخ ہو اور ایسی صورت میں دوائی  ڈالی جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر پردے میں سوراخ یا پھٹن کا  کوئی علم نہ ہو اور دوائی  ڈالی جائے  تو ایسی صورت میں بھی روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اطباء کی رائے کے مطابق   کان کے پردے  کا سوراخ یا پھٹن مریض کو محسوس ہونا ضروری نہیں ۔

 

 وإذاستعط أوأقطر فی أذنہ إن کان شی مما یتعلق بہ صلاح البدن نحوالدھن والدواء یفسد صومہ من غیر کفارۃ۔(الفتاوی التاتارخانیۃ،کتاب الصوم،مایفسد الصوم ومالایفسدہ 2/286)


فتویٰ نمبر : 9096/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں