بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی رقم سے ڈاکٹر کی فیس ادا کرنا


سوال

جس ہسپتال میں زکوٰۃ کی رقم آتی ہوتوکیاڈاکٹر کی فیس زکوٰۃ کی رقم سے ادا کر درست ہے یا نہیں ؟

جواب

     واضح رہے کہ فلاحی اداروں کے پاس جمع شدہ زکوٰۃ کی رقم امانت ہوتی ہے، جسے مستحقِ زکوٰۃ افراد (فقیر،مسکین)تک مالکانہ حقوق کے ساتھ پہنچانا اس ادارے کے ذمہ داران پر شرعًا لازم ہوتا ہے، اور جس طرح زکوٰۃ کی رقم مستحق شخص کو مالک بناکر دینا ضروری ہے، اسی طرح زکوٰۃ کی رقم کسی مستحق ِ زکوٰۃ کوبلاعوض دینا بھی ضروری ہے، لہٰذا ڈاکٹر کو اس کی خدمات کی فیس (اجرت)میں زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ اس کی بجائے یوں کیا جائے کہ جو مریض واقعتًا مستحق ِزکوٰۃ ہو تو اسے زکوٰۃ کی رقم کامالک بناکر دے دی جائے، وہ مالک بن جانے کے بعد اس رقم کو ڈاکٹر کی فیس کی مد میں یا ہسپتال سے فراہم کردہ دواؤں کی خریداری کی مد میں ادا  کردے، اس سے حاصل شدہ رقم کو ڈاکٹر کی فیس ،تنخواہ اور ہسپتال کے دیگر مصارف میں صرف کیا جاسکتاہے۔

 

ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير؛ لعدم قبضه، وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة؛ لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلاً عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم.(بدائع الصنائع ،كتاب الزكاة، فصل رکن الزکاة،ج:2،ص39)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں