بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بلا نيت "میری باجی" کے الفاظ سے ظہار کا مسئلہ


سوال

 ایک شخص ظہار کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اچانک بیوی کے سامنے "میری باجی" منہ سے نکل گیا لیکن ظہار کی نیت نہیں تھی اور نہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کی نیت تھی تو کیا ظہار واقع ہو گیا؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے شوہر کا بیوی کو محرمات ابدیہ کے ساتھ تشبیہ دینا ظہار کہلاتا ہے ، لیکن حرف تشبیہ استعمال نہ ہواہو تو محض نسبت کرنے سے ظہار کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔ تاہم بیوی کو ان الفاظ سے پکارنا فقہائے کرام نے مکروہ لکھا ہے۔

          صورت مسئولہ میں شوہر کے مذکورہ الفاظ "میری باجی" سے ظہار واقع نہیں ہوا کیونکہ نہ اس میں ادات تشبیہ ہیں اور نہ شوہر نےان الفاظ سے  ظہار کی نیت کی تھی، البتہ اس طرح کے الفاظ سے گریز کرنا چاہیے۔

 

لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها ومثله أن يقول: يا ابنتي ويا أختي ونحوه ولو قال لها: أنت مثل أمي أو كأمي ينوي فإن نوى الطلاق وقع بائنا وإن نوى الكرامة أو الظهار فكما نوى. (فتاوی هندیه، کتاب الطلاق، الباب التاسع فی الظهار،ج:1 ، ص:507)

ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه (وبأنت علي حرام كأمي صح ما نواه من ظهار، أو طلاق) وتمنع إرادة الكرامة لزيادة لفظ التحريم. ( الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الطلاق، باب الظهار، ج:1، ص:407)


فتویٰ نمبر : 6397/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں