بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ترکہ کی مشترکہ جائیداد فروخت كرنےکے بعد دیگر ورثا کے لیے ضامن بننا


سوال

ایک شخص وفات پا چکا ہے اورااس نے اپنے بہنوں کا حصہ نہیں دیا اور اس شخص نے اپنی زندگی میں جائیداد کا کچھ حصہ  فروخت بھی کیا تھا، اب بہنیں بھی وفات پا چکی ہیں لیکن  اب متوفی کا بیٹا اپنی پھوپھیوں کا حصہ دینا چاہتا ہے ، موجودہ جائیداد سے ان کے ورثا ءکو حصہ دے چکا ہے لیکن جو جائیداد والد نے اپنی زندگی میں فروخت کی ہے اس کی قیمت بھی ادا کرنا چاہتا ہے ،تو کیا فروخت شدہ جائیداد کا حساب موجودہ قیمت کے لحاظ سے ادا کرے گا یا  جس وقت فروخت کیا تھا اس وقت کا اعتبار ہوگا؟

جواب

           واضح رہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کے ترکہ منقولہ و غیر منقولہ میں تمام ورثا اپنے حصوں کے بقدر مالک ہوجاتے ہیں، کسی وارث کے لیے جائز نہیں کہ وہ دیگر ورثا کی اجازت و رضامندی  کے بغیر تصرف کرے۔

          صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  مذکورہ شخص نے جائیداد میں اپنی بہنوں  کا حصہ ان کی رضامندی سے فروخت کیا ہو تو یہ بیع صحیح ہو کر رقم میں سب بہنیں اپنے حصوں کے بقدر شریک  ہوں گے ۔ اور اگر مذکورہ شخص نے وہ جائیداد اپنی بہنوں کی اجازت و رضامندی کے بغیر فروخت کی ہو ، تو اس میں چونکہ اس كى بہنوں کا  حق بھی تھا ، اس لیے اس کے اپنے حصے کے بقدر بیع تو صحیح ہوگی، لیکن بہنوں کے حصوں میں یہ بیع نافذ نہ ہوگی، اس لیے کہ ان کے حصوں کا وہ مالک نہیں اور غیر مملوک چیز کی بیع نافذ نہیں ہوتی،البتہ اب اگر بہنوں  کے ورثا رضامندی کے ساتھ اپنے حصہ کے بدلے میں کچھ عوض لے لیں تو یہ جائز ہےتاہم قیمت اس وقت کی معتبر ہوگی جس وقت فروخت ہوئی تھی۔

 

وقوله تعالى ﴿والصلح خير﴾ قال بعض أهل العلم يعني خير من الإعراض والنشوز وقال آخرون من الفرقة وجائز أن يكون عموما في جواز الصلح في سائر الأشياء إلا ما خصه الدليل ويدل على جواز الصلح عن إنكار والصلح من المجهول. (أحكام القرن للجصاص، باب المصالحة المرأة وزوجها، ج:2، ص:283)

(ومن باع ملك غيره) يعني لغيره. أما إذا باع لنفسه لم ينعقد، كذا في (البدائع) وأراد بغير أمره لقوله (فللمالك أن يفسخه أو يجيزه)، وأفاد أنه صحيح لكنه موقوف على الإجازة. (النهرالفائق، كتاب البيوع، باب الحقوق،فصل في بيع الفضولی، ج:3، ص:490)

(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم. (بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه ج:6، ص:568)


فتویٰ نمبر : 3264/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں