بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قرآن مجید کے بوسیدہ نسخے اور اوراق تلف کرنا


سوال

ضعیف قرآن مجید کی تلف کرنے کے بارے میں قرآن و حدیث اور احادیث کی روشنی میں تحریری فتوی دیا جائے کہ قرآن مجید کے تلف کرنے کے بارے میں کیا طریقہ کار ہے ؟

جواب

              واضح رہے کہ قرآنی آیات ،احادیث مبارکہ،اسماء الہی واسماء انبیاے کرام پرمشتمل اوراق اور دیگر دینی کتب ورسائل کاادب واحترام ہرمسلمان کی دینی ذمہ داری ہے،جس طرح ان کتب ومصاحف کےصحیح اور قابل استعمال ہونے کی صورت میں ان کا ادب واحترام لازم ہےاسی طرح ان کے پرانے،بوسیدہ اور ناقابل انتفاع ہونے کی صورت میں بھی احترام ضروری ہے۔ایسے اوراق اور مصاحف اگر بوسیدہ ہوجائیں تو فقہاےکرام نے انہیں بے حرمتی سے بچانے کی مختلف صورتیں بتلائی ہیں:

(1) پہلی صورت یہ ہے کہ انہیں کسی کپڑے میں لپیٹ کر کسی ایسی جگہ دفن کردیاجائے جہاں لوگوں کاآناجانا بالکل نہ ہو یا بہت کم ہو۔ مسلمان میت کی طرح قبر کھود کر دفن کردیاجائے،اور بہتر یہ ہے کہ بغلی قبر بنائی جائے۔

(2) دوسری صورت یہ ہے کہ ان مقدس اوراق کے ساتھ کوئی پاک وزنی چیزباندھ کر کسی دریایاسمندر میں ڈال دیاجائے۔

(3) تیسری صورت یہ ہے کہ ان اوراق کو پانی سے دھوکر ان کی لکھائی اور نقوش کو مٹادیاجائے اور پھر ان اوراق کو جلادیاجائے۔ آج کل چونکہ کتابوں کی طباعت پختہ سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے اس لیے عموماً پانی کے ذریعےنہیں مٹایاجاسکتا البتہ کسی کیمیکل کے ذریعے مطبوعہ حروف کو مٹادینا (wash out) ممکن ہے کہ حروف ونقوش مٹ کر سیال (liquid) مادہ کی شکل اختیار کرجائیں اور اس طرح کرنےسے جوباقی بچے گا وہ کاغذنہیں رہےگا بلکہ گودےکی شکل میں ہوگا لہذا پھراس کاحکم مقدس اوراق کانہیں رہے گا۔

 

 "قال الحصكفي:الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء"" وقال ابن عابدين:وفي الذخيرة المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ ولا يكره دفنه وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل" (الدر المختارمع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء وغیرہ ،ج:9، ص: 605)

“وفي مسائل الملتقط: ورسائل تستغنى عنهاوفيها اسم الله تعالى يمحى ثم يلقى في الماءالكثير واتخذ منه قراطيس كان أفضل" (الفتاوی التاتارخانية،كتاب الكراهية ، المادة ، 28066 ، ج: 8، ص:  69)


فتویٰ نمبر : 4959/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں