بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

عباد نام رکھنے کا شرعی حکم


سوال

کیا بچے کے لیے "عباد" نام رکھنا شرعاٹھیک ہے؟

جواب

           والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے لیے اچھا نام تجویز کریں ، نام رکھنے میں معنی کی رعایت رکھنا ضروری ہے، کونکہ اچھے اور بامعنی نام کا اثراچھا ہوتا ہے اور برے نام کا اثر برا ہوتا ہے۔

          لفظ "عباد" (عین پر زیر) عبد کی جمع ہے ، بمعنی بندے، غلام اور محکوم ۔ اس کے آخر میں اللہ کا ذاتی یا صفاتی نام بھی لگا دیاجائے "عباداللہ" تو اس کا معنی ہوگا؛ اللہ کے بندے۔ "عباد" کے نام سےصحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا تذکرہ بھی پایا جاتا ہے  لہذا عباد نام رکھنا درست اور باعث برکت ہے۔

 

عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم. (سنن أبي داود، باب في تغيير الأسماء، ج:2،ص985)

عن ابن عمر، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن أحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن. (سنن ترمذي، باب ما جاء ما يستحب من الأسماء، رقم الحديث: 2834)

ذکر من اسمه عباد بكسر اوله والتخفيف۔۔۔۔۴۵۰۶- عباد: بن خالد الغفاري. ( الإصابة في تمييز الصحابه، ج: 3، ص: 504)


فتویٰ نمبر : 4966/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں