بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نجاست لگے ہوئے ہاتھوں سے پانی استعمال کرنا


سوال

 جب میرے ہاتھ ناپاک ہو جائیں تو بالٹی سے پانی لینے کے لیے مگ کو ہاتھ لگاتا ہوں اور چونکہ نجاست غیر مرئی ہوتی ہے اس لیے مگ کو ناپاک سمجھتا ہوں ، پھر اس مگ کی چھینٹیں جب ادھر اُدھر لگتے ہیں تو آس پاس کی چیزوں کو ناپاک سمجھتا ہوں ، اس طرح ایک ٹانگ کو دھو لیتا ہوں تو دوسری ٹانگ پر چھینٹیں پڑتی ہیں  اس وجہ سےاس کو ناپاک سمجھتا ہوں ، الغرض پانی بہا بہا کر ٹینکیاں خالی ہو جاتی ہیں لیکن تسلی نہیں ہوتی تو اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ایک حدیث پر نظر پڑی ہے کی پانی اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا جب تک اس کا رنگ،بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہوجائےتو کیا اس پر عمل کروں؟

جواب

            اگر ايسی نجاست ہاتھوں پر لگ جائےجو نظر نہ آتی ہو اور نجاست کا اثر بھی نہ ہو ،تو بالٹی سےمگ وغیرہ کے زریعے پانی اس طرح  نکالا جائےکہ ہاتھ بالٹی کے پانی میں نہ لگے ،اس سے دونوں ہاتھ صاف کیے جائیں اور ہاتھ دھونے کے بعد   بلا تردد اس پانی سے وضو یا غسل كيا جائے۔اگر بدن پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہوتو وضو یا غسل میں جوچھینٹیں بدن پر پڑتے ہیں وہ پاک ہیں اس سے بدن ناپاک نہیں ہوتا ، اگر  چند قطرے  پانی میں بھی گر جائیں توپاک پانی زیادہ ہونے کی وجہ سےپاک ہی رہے گا  اور اس سے وضو یا غسل کیا جا سکتا ہے،ایسی صورت میں اُس جگہ کو یا بالٹی کے پانی کو ناپاک تصور کرنا شیطان کی طرف سے وہم اور وسوسہ ہے  اس کی بالکل پرواہ نہ کی جائے، حدیث مبارکہ میں ایسے وسوسوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے لہذا اس طرح کے وسوسوں کو  نظرانداز کیا جائے۔

 

عن أبي بن كعب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن للوضوء شيطانا يقال له ولهان، فاتقوا وسواس الماء. ( سنن ابن ماجه، باب ما جاء في القصد في الوضوء وكراهية التعدي فيه، رقم الحديث:421، ج:1، ص:146)

"ولو ابتل فراش أو تراب نجسا" وكان ابتلالهما "من عرق نائم" عليهما "أو" كان من "بلل قدم وظهر أثر النجاسة" وهو طعم أو لون أو ريح "في البدن والقدم تنجسا" لوجودها بالأثر "وإلا" أي وإن لم يظهر أثرها فيهما "فلا" ينجسان. (حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الانوار، باب الأنجاس والطهارة عنها، ج:1، ص:158)

(وهو طاهر) ولو من جنب وهو الظاهر، لكن يكره شربه والعجن به تنزيها للاستقذار، وعلى رواية نجاسته تحريما (و) حكمه أنه (ليس بطهور) لحدث بل لخبث على الراجح المعتمد. (ردالمحتار،باب المياه، ج:1، ص:200)


فتویٰ نمبر : 9127/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں