بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

قضا روزوں کے باوجود نفل روزے رکھنا


سوال

اگر کسی کے ذمے قضا روزے باقی ہوں اور وہ نفل روزے رکھے  تو کیا یہ نفلی  روزے رکھنا صحیح ہوں گے یا نہیں ؟

جواب

            واضح رہے کہ نفل روزہ الگ ہے اور قضاروزہ  الگ ہے، جس شخص کے ذمہ قضا روزے ہوں تو بہتر یہی ہے کہ وہ پہلے قضا روزے رکھے، کیوں کہ ان کی ادائیگی ذمہ پر لازم ہے اگراسی حالت میں موت آجائے تو اس پر مؤاخذہ بھی  ہو سکتا ہے،تاہم اگر کوئی ان نفلی روزوں کو قضاروزوں  سے پہلے  رکھ لیتا ہے تو نفلی روزے کا ثواب ملے گااور قضا روزے اسی طرح اس کے ذمے باقی رہیں گے ۔

 

ولا يكره صوم التطوع لمن عليه قضاء رمضان كذا في معراج الدراية.(الفتاوى الهندية: كتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره ج: 1،ص:201)


فتویٰ نمبر : 9071/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں