بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

پاک دامن عورت پر تہمت لگانے سے تعزیر


سوال

ایک سسر اپنی بہو جو کہ عالمہ ،حافظہ ہے اس کے بارے میں لوگوں کو کہتا ہے کہ میری بہو ایک خبیث ،فاحشہ اور کذاب عورت ہے ۔ایسے نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے شخص کیلئے شریعت میں کیا حکم ہے ؟اور کیا ایک پاک دامن عورت کی عزت نفس مجروح کرنے کی وجہ سے یہ  عورت مالی تعزیر کا دعوی کرسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

             واضح رہے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا  گناہ کبیرہ ہے ، اس کے متعلق قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،خاص طور پر کسی پاک دامن عورت کو "فاحشہ"وغیرہ ایسے الفاظ کہنا جو "زنا کی تہمت" کے زمرے میں آتے ہوں سنگین جرم ہے ،اس کا مرتکب فاسق اور اس پر اسلامی ریاست میں ''تعزیر''کی سزا جاری ہوسکتی ہے ۔ لیکن شرعی سزائیں نافذ کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے ،عام افراد کو اس کا اختیار نہیں ہے۔

          لہذا بصورت  صدق واقعہ  اگر مذکورہ شخص اپنی بدزبانی سے باز نہیں آتا تو عدالت سے ایسے شخص کو تعزیری سزا دلوائی جاسکتی ہے۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اجتنبوا السبع الموبقات» ، قالوا: يا رسول الله وما هن؟ قال: «الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات»۔( صحيح البخاري ،باب قول الله تعالى:إن الذين ياكلون اليتامى ظلما۔۔۔،ج4،ص10 )

والتعزير تأديب دون الحد، وأصله من العزر بمعنى الرد والردع. وهو مشروع بالكتاب، قال الله تعالى {فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أمر بضرب الزوجات تأديبا وتهذيبا. وفي الكافي قال - عليه الصلاة والسلام - «لا ترفع عصاك عن أهلك» وروي «أنه - عليه الصلاة والسلام - عزر رجلا قال لغيره يا مخنث» . وفي المحيط: روي عنه - عليه الصلاة والسلام - قال «رحم الله امرأ علق سوطه حيث يراه أهله» وأقوى من هذه الأحاديث قوله - عليه الصلاة والسلام - «لا يجلد فوق عشر إلا في حد» وسيأتي.۔۔۔۔فهذا دليل شرعية التعزير وأجمع عليه الصحابة.( فتح القدير:كتاب الحدود،باب حد القذف،فصل في التعزير،ج  5،ص345


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں