بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم اسلامی ایپ پر خرچ كرنا


سوال

زکوۃ کی رقم کسی اسلامی ایپ یا ویب سائٹ چلانے والے کو اس نیت سے دینا کہ وہ یہ زکوۃ کی رقم اسلامی ایپ  پر لگائے گا، کیا اس سے زکوۃ ادا ہو جائے گی؟

جواب

          زکوۃ اور صدقات واجبہ میں فقراو مساکین کو بلا معاوضہ مالک بنانا ضروری ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں اگر اسلامی ایپ چلانے والا شخص مستحقِ زکوۃہو تو اس کو زکوۃ کی رقم کا مالک بنانے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی لیکن اس کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ یہ رقم ایپ پر لگائے۔اور اگر وہ شخص مستحقِ زکوۃ نہ ہو تو اس کو زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔

 

مصرف الزكاة والعشر،۔۔۔(هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.(ومسكين من لا شيء له) على المذهب،۔۔۔ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)۔(الدر المختار علی صدر رد المحتار، کتاب الزکاۃ، ج: 3، ص: 283)

ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه۔ (الفتاوى الهندية، ج: 1، ص: 188)


فتویٰ نمبر : 9073/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں