بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
قرض خواہ کا خلاف جنس سے اپنا حق وصول کرنا
سوال
ایک شخص نے درزی کو سلوانے کے لئے کپڑا دیا پھر دو سال تک نہیں پوچھا جب کہ اس کے ذمے پہلےسے درزی کا قرضہ تھا تو درزی نے دو سال بعد اس کا کپڑا اپنے پیسوں کے عوض بیچ دیا، اس وصولی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب
شریعت ِمطہرہ کی روسےاگرمقروض قرض واپس کرنےمیں ٹال مٹول سےکام لیتاہو،توقرض خواہ کویہ اختیارحاصل ہےکہ وہ مقروض کےمال میں سےاپنےحق کےبرابرکوئی چیزلےلے،اوراپناحق حاصل کرے،خواہ وہ چیزقرض کے جنس سےہویانہ ہو،کیونکہ آج کل حقوق کی ادائیگی میں غفلت برتی جاتی ہے،اس وجہ سےفقہائےکرام نےخلافِ جنس سےبھی قرض وصول کرنےکوجائزقراردیاہے۔
لہذاصورتِ مسؤلہ کےمطابق اگردرزی کے پاس قرض دار کے کپڑے موجود ہیں اورمقروض قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام نہیں لے رہا تو ایسی صورت میں اس کو کپڑے لوٹا کر اپنا حق وصول کرے البتہ اگر مطالبے اور کوشش کے باوجود درزی کو اپنا حق نہ مل رہا ہو تو مقروض کی امانت سے اپنا حق وصول کرنے کی شرعاً اجازت ہےکہ کپڑے کو بیچ کر اپنا حق وصول کر لے ، لیکن اس بات کا خیال رہے کہ اپنے حق سے زیادہ وصول نہ کر لے،اور اگر کپڑ ا زیادہ میں بک گیا تو قرض وصول کرنے کے بعد اضافی رقم اس کو واپس کر دے ۔
أقول : ورأيت في الحظر والإباحة من المجتبى رامزا ما نصه : وجد دنانير مديونه وله عليه درهم له أن يأخذه لاتحادهما جنسا في الثمنية ا هـ ومثله في شرح تلخيص الجامع الكبير للفارسي في باب اليمين في المساومة .
[ تنبيه ] : قال الحموي في شرح الكنز نقلا عن العلامة المقدسي عن جده الأشقر عن شرح القدوري للأخصب:إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق ، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم العقوق.(ردّالمحتارعلى الدر المختار ،کتاب الحجر،ج: 9،ص:221)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں