بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چار ماہ سے کم مدت میں بوجہ عذر حمل ساقط کرنا


سوال

ایک عورت کا دس ماہ قبل بچہ پیدا ہوا تھا۔اب دوسرا حمل ٹہرگیا ہےجو چالیس دن سے کم ہے،کیا اس صورت میں اسقاط حمل کرنا جائز ہے،جبکہ عورت اور بچے کی صحت خراب ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

جواب

             واضح رہے اگر عورت جسمانی طور پر کمزور ہو یا پہلے سے موجود بچے کی صحت کے خراب ہونے کا قوی خطرہ ہوتو ایسی صورت میں شریعت نے اسقاط حمل کی اجازت دی ہے،بشرط یہ کہ حمل چار ماہ سے کم  ہو۔

             صورت مسؤلہ میں اگر واقعی عورت کی صحت یا پہلے سے موجود بچے کی صحت خراب ہونے کا قوی خطرہ ہو اور کوئی صالح دیندار ڈاکٹر اسقاط حمل کا مشورہ دیدے تو چار ماہ سے کم عرصہ کا حمل ساقط کرنے کی گنجائش ہے۔

 

يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثامن عشر في التداوى:ج 5،ص 356)


فتویٰ نمبر : 4965/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں