بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ترکہ کی مشترکہ زمین میں تصرف کرنا


سوال

اگرکوئی  آدمی   ترکہ کی مشترکہ  زمین  مثلاً ساڑھے چار( 4.5)مرلے زمین  فروخت کرکے  اس کے ساتھ  کچھ ذاتی رقم ملا کر  سولہ مرلے زمین خریدے، جب کہ  بہنیں  اپنے حصص کا مطالبہ  بھی کرتی ہوں ،تو شرعاً ان بہنوں  کا حصہ ساڑھے چار  ( 4.5)مرلے زمین   یا اس کی قیمت  میں سے ہو گا؟اور  یاسولہ (16) مرلے  زمین  میں  وہ حصہ دار ہوں گی؟

جواب

             واضح رہے  کہ جب  کوئی  شخص  فوت  ہو جائے  تو اس کے ترکہ  منقولہ  وغیر منقولہ  میں  تمام  ورثا  اپنے حصوں  کے بقدر  مالک ہو جاتے ہیں  کسی وارث  کے لیے  یہ جائز نہیں کہ کسی دوسرے وارث  کو محروم  کرے یا وہ  دیگر  ورثا  کی اجازت ورضامندی  کے بغیر  ترکہ  میں تصرف کرے۔  

          صورت مسٔولہ میں  جس شخص نےمتروکہ مشترکہ زمین  فروخت کر کے سولہ (16) مرلے  زمین خریدلی ہے،تو اگر اس نے بہنوں  کی اجازت  کے بغیر فروخت  کر کے   سولہ مرلے زمین   خریدلی ہو  تو ساڑھے(4.5)مر لے  زمین میں اس کی بہنیں  اس کے ساتھ  حقدار  ہوں گی۔تاہم اگر وہ باہم صلح کر کے  اپنے حصہ کے بدلے میں عوض لینے پر  راضی ہو جائیں ،تو اس میں  شرعاً کوئی حرج نہیں۔

 

 إذا أخذا أحدالورثة مبلغاً من الدّراهم من التركة قبل القسمة بدون إذن الأخرين وعمل فيه وخسر تكون الخسارة عائدة إليه كما أنه إذا ربح لا يسوغ لبقيّة الورثة طلب حصّة منه۔(شرح المجلة،المادة،1090،ج:4،ص:29)


فتویٰ نمبر : 3202/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں