بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قرض کرنسی کے بدلے دوسری کرنسی لینا


سوال

زید کا کاروبار ہے وہ اموال خرید کر دوکانداروں کو دے دیتا ہے اور اس کا معاملہ اکثر قرض کا ہے بڑے ڈیلرز سے قرض اموال لے کر بازار میں چھوٹے دوکانداروں کو  قرض پر دیتا ہے۔ زید جب اموال لیتا ہے تو افغانی پر لیتا ہے اور بڑے ڈیلرز اموال ڈالر میں خرید کر اس حساب سے زید پر افغانی میں فروخت کرتے ہيں۔ کچھ مدت تک یہ معاملہ افغانی میں چلتا ہے لیکن جب ڈالر اور افغانی کرنسی کے تفاوت میں اونچ نیچ آگیا تو ڈیلر نے زید کو کہا کہ مقررہ مدت تک قرض واپس کرو۔ زید قرض کو ادا نہ کر سکا تو زید کی رضا مندی پر اس قرض کو جو افغانی کرنسی میں تھا روز نرخ کے حساب سے ڈالر میں تبدیل کیا۔ اور اسی طرح زید نے بھی جو چھوٹے دوکانداروں کو قرض دیا تھا وہ بھی ڈالر میں اس روزکے  نرخ کے حساب سے تبدیل کیا۔ اب جب بھی زید کو چھوٹے دوکاندار یا زید اپنے ڈیلر کو افغانی کرنسی لاتا ہے تو اسکو اس روز کے نرخ کے حساب سے ڈالر میں تبدیل کر کے قرض میں وصول کرتے ہیں تو اس صورتحال میں درجہ ذیل سوالات حل طلب ہیں ۔ کیا قرض کو ایک کرنسی سے دوسری کرنسی میں تبدیل کرنا جائز ہے؟ اگر قرض ڈالر کے حساب سے ہو تو افغانی کرنسی اس کے عوض میں اس روزکے  نرخ کے حساب سے وصول کرنے کا کیا حکم ہے؟ اگر قرض کو تبدیل کرنا نا جائز ہو تو زید اپنے قرضداروں کا معاملہ افغانی کرنسی چھوڑنے کو تیار ہے لیکن زید کا ڈیلر اگر افغانی کرنسی میں ماننے کو تیار نہ ہو تو کیا اس صورت میں زید گناہ گار ہوگا یا نہیں کیونکہ زید کے اختیار میں نہیں کہ وہ ڈیلر پر اپنا معاملہ افغانی میں چھوڑ دے؟

جواب

             شریعتِ مطہرہ کی رو سے قرض خواہ کرنسی کی اس جنس کا مطالبہ کر سکتا ہے جو قرضدار کے ذمہ ہو  تاہم اگر دونوں باہمی رضامندی سے اس کرنسی  کی جگہ جو قرضدار کے ذمے ہے، کسی  اور کرنسی سے قرض کی ادائیگی کرنا چاہیں  تو کر سکتے ہیں  لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ دوسری کرنسی اسی دن کے ریٹ کے مطابق ہی قرض کے بقدردی جائے، اور  اسی مجلس میں دوسری کرنسی پر قبضہ بھی ہو جائے۔

                صورت مسئولہ میں زید اپنا قرض اور ڈیلر اپنا قرضہ افغانی سے بدل کر ڈالر میں اگر وصول  کرنا چاہیں تو طرفین کی رضامندی سےجائز ہوگا لیکن اس شرط پر کہ ادائیگی اسی مجلس میں اسی دن کے ڈالر کی قیمت کے مطابق ہو  جس مجلس میں قرض کو دوسری کرنسی میں بدلنے پر  اتفاق ہو جائے ، لیکن اگرادائیگی اس مجلس میں نہ ہوسکے تو سابقہ کرنسی بدستور قرض کے طور پر لازم رہے گی ۔

 

حدثنا موسى بن إسماعيل، ومحمد بن محبوب، المعنى واحد، قالا: حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، قال: كنت أبيع الإبل بالبقيع فأبيع بالدنانير، وآخذ الدراهم وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانير، آخذ هذه من هذه وأعطي هذه من هذه فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو في بيت حفصة فقلت: يا رسول الله، رويدك أسألك إني أبيع الإبل بالبقيع فأبيع بالدنانير، وآخذ الدراهم وأبيع بالدراهم، وآخذ الدنانير آخذ هذه من هذه وأعطي هذه من هذه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء. (سنن أبي داود، كتاب البيوع، باب في اقتضاء الذهب من الورق، ج:3، ص:250)

(وإلا) بأن لم يتجانسا(شرط التقابض) لحرمة النساء (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح، و) العوضان (لا يتعينان) حتى لو استقرضا فأديا قبل افتراقهما أو أمسكا ما أشار إليه في العقد وأديا مثلهما جاز.(ويفسد) الصرف (بخيار الشرط والأجل) لإخلالهما بالقبض . (الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5، ص:258۔259)

وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه، وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:7، ص:390)


فتویٰ نمبر : 3011/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں