بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

وسوسہ میں مبتلا شخص کی طلاق کاحکم


سوال

بندہ وساوس کی کثرت سے تنگ آگیا ہے اور ذہنی مریض بن چکا ہے کئی ماہر نفسیات سے علاج بھی کیا لیکن کچھ اثر نہ ہوا اور یہ سلسلہ آٹھ ماہ سے جاری ہے مقامی دارالافتاء نے فتوی دیا ہے کہ وسوسے کا مریض اگر منہ سے طلاق کے الفاظ نکالے تب  بھی اس کی طلاق واقع نہ ہوگی تو کیا وسوسے کے مریض کی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

              بیوی پر طلاق واقع ہونے کے لیے طلاق کے الفاظ کا ہونا ضروری ہے اور ان الفاظ کی نسبت بیوی کی طرف ہونا بھی  ضروری ہے ۔ اس لیے اگر زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے جائیں محض دل میں خیال و وسوسہ آجائے تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی اسی طرح غیر ارادی طور سے   یا مشکوک طور سے اگر زبان سے طلاق کے الفاظ سرزد  ہو جائیں  تو بھی طلاق واقع نہ ہوگی۔

              صورت مسئولہ میں اگر بندہ واقعی وسوسوں سے اس حد تک متاثر ہے کہ وسوسوں سے اس کی جان نہیں چھوٹتی اور اس حالت میں غیر ارادی طور پر اس کی زبان سے طلاق کے الفاظ نکل جائیں تو اس کی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب ما يشك في أنه ردة لا يحكم بها، ج:4، ص:224)

أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، مطلب في قول البحر: إن الصريح يحتاج في وقوعه ديانة إلى النية، ج:4، ص:461)

علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ( الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الطلاق باب صريح الطلاق، مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين، ج:2، ص:492)


فتویٰ نمبر : 6410/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں