بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

گھریلو سامان کی ناپاکی کا حکم


سوال

مسئلہ یہ ہے کہ پاکی اور ناپاکی کے مسائل کا علم نہ ہونے کی وجہ سے اور مسائل کا علم ہونے کے بعد بھی سستی یا لاپرواہی کی وجہ سے گھر کی بہت سی چیزیں ناپاک ہو گئ ہیں اور ان چیزوں کا استعمال گھر کے افراد نے بھی کر لیا ہے مطلب یہ کہ ناپاکی گھر کے دوسرے لوگوں تک منتقل ہو گئ ہے اب میرے لئے تمام چیزوں کو پاک کرنا بہت مشکل ہے اور گھر والوں کو سمجھانا بھی مشکل ہے وہ اسی طرح نماز روزہ ادا کر رہے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ گھر والے بھی پاکی اور ناپاکی کے بہت سے مسا ئل سے واقف نہیں ہیں اور پاکی ناپاکی کا خیال بھی نہیں رکھتے مثلاً ہاتھ سے خون بہہ جانے کے بعد بس کپڑے سے پونچ لیتے ہیں یا منہ بھر الٹی کرنےکے بعد بھی بس صرف کپڑے سے صاف کر لیتے ہیں اور ناپاک کپڑوں کو بھی شرعی طریقے سے پاک نہیں کرتے نیز گھر والے وضو اور غسل وغیرہ بھی ایک ہی جگہ کرتے ہیں اس طرح وہ مستقل گھر کی اشیا میں ناپاکی منتقل کرتے رہتے ہیں گھر میں ہزاروں چیزیں ہیں اور روزانہ تمام چیزوں کو پاک کرنا میرے لئے بہت مشکل ہے اب میرے لیے ان حالات میں کیا حکم ہے اور کپڑوں اور برتن یا گھر کی دوسری چیزیں جیسے موبائل، فریج، الماری، بالٹی وغیرہ کے استعمال کا کیا حکم ہو گا ؟گھر والوں کو سمجھانے کے بعد بھی وہ مسائل پر عمل نہیں کرتے اب آہستہ آہستہ ایک ایک مسئلہ سمجھا رہا ہوں لیکن اس میں بہت وقت لگے گا اس وقت تک میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

             شریعت  مطہرہ میں  جب تک  ناپاکی کا یقین یا ظن غا لب نہ ہو کسی چیز کو محض شک کی وجہ سے ناپاک نہیں کہا جا سکتا۔

             صورت مسئولہ میں ذکر کردہ  گھر کی چیزوں پر اگر ظاہری نجاست نہ ہو، محض وہم یہ ہو کہ فلاں چیز نجس ہوئی ہوگی اس  طرح ساری چیزوں سے متعلق یہ گمان بنا ہو تو محض اس گمان سے مذکورہ اشیا نجس نہیں ہوتی جب تک یقینی طور پر نجاست کا اثر کسی چیز میں ظاہر نہ ہوا ہو۔

 

شك في وجود النجس : فالأصل بقاء الطهارة. (الأشباه والنظائر، ما تفرع عن هذا الأصل: من الطهارة، ج:1، ص:77)

(قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن. (ردالمحتار على الدرالمختار، باب فرض الغسل، ج:1، ص:151)

قوله : اليقين لا يزول بالشك...والثاني : أن يجد ماء متغيرا واحتمل تغيره بنجاسة ، أو طول مكث ، يجوز التطهير به عملا بأصل الطهارة. (غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر، القاعدة الثالثة، ج:1، ص:383)


فتویٰ نمبر : 9170/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں