بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

سروس اسٹیشن میں شراکت کا حکم


سوال

ایک شخص اپنی زمین پر سروس اسٹیشن بنانا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہیں دوسرا شخص اسے کہتا ہے کہ جتنا خرچہ سروس اسٹیشن پر آتا ہے وہ میں کرلوں گا ،منافع ہم دونوں میں مشترک ہو گا ،دوسری شرط یہ ہے کہ میں کام کرنے میں شریک نہیں ہوں گا کام آپ سنبھالوگے اپنے لیے تنخواہ مقرر کرلو یعنی جتنے پیسے سروس کمائے اس میں سے پہلے آپ اپنی تنخواہ  لو باقی جتنا منافع رہ جائے وہ ہمارے درمیان  شریک ہوگا، کیا یہ طریقہ جائز ہے اگر جائز نہیں تو جائز طریقہ کیا ہوگا جو دونوں کے  لیے مناسب ہو؟

جواب

               شرکت کی من جملہ شرائط میں سے یہ ہے کہ جانبین کا سرمایہ مال کی صورت میں ہو  اور نفع بھی دونوں میں شریک ہو تاہم کسی ایک شریک کو اگر اسی مشترک کام میں بطورِ ملازم لگایا جائے اور اس کی تنخواہ مقرر کی جائے تو بھی تعامل الناس کی وجہ سے جائز ہے۔

                صورت مسئولہ میں  ایک طرف سے سرمایہ مال نہ ہونے کی وجہ سے شرکت فاسد ہے البتہ جواز کی صورت یہ بن سکتی ہےکہ سرمایہ دار زمین کاکچھ حصہ خرید کر اس کی قیمت زمین والے کے حوالہ کردے اور پھر دونوں رقم اکھٹی کر کے اس سے کاروبار شروع کر لیں اس طرح سے شرکت جائز ہو جائے گی اور پھر دونوں میں سے کسی ایک شریک کو کام چلانے کے لیے تنخواہ پر مقرر کر لیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

 

قيل: ههنا نظران: الأول في قوله حيث لا يجب الأجر كيف يقول لا يجب، لأنه قد وجب وقبض وهو نصف الطعام، ثم يقول لأن المستأجر ملك الأجر... والثاني في قوله لأن ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه نظر، فإن هذا ممنوع... ولكن الحق أن الجزء الذي لشريكه ليس هو عاملا لنفسه فيه، بل لشريكه فهو في الحقيقة عامل لنفسه، وعامل لشريكه فأخذه الأجرة في مقابلة عمله لشريكه. (البناية شرح الهداية، باب الإجارة الفاسدة، ج:9، ص:362)

قال في التبيين: ومشايخ بلخ والنسفي يجيزون حمل الطعام ببعض المحمول ونسج الثوب ببعض المنسوج لتعامل أهل بلادهم بذلك، ومن لم يجوزه قاسه على قفيز الطحان. والقياس يترك بالتعارف. ولئن قلنا: إنه ليس بطريق القياس بل النص يتناوله دلالة فالنص يخص بالتعارف ألا ترى أن الاستصناع ترك القياس فيه، وخص من القواعد الشرعية بالتعامل، ومشايخنا - رحمهم الله - لم يجوزوا هذا التخصيص؛ لأن ذلك تعامل أهل بلدة واحدة وبه لا يخص الأثر، بخلاف الاستصناع فإن التعامل به جرى في كل البلاد، وبمثله يترك القياس ويخص الأثر. (ردالمحتار على الدر المختار، مطلب يخص القياس والأثر بالعرف العام دون الخاص، ج:5، ص:40۔41)

وقال أيضا: (فإن قلت) إذا كان على المفتي اتباع العرف و إن خالف المنصوص عليه في كتب ظاهرالرواية فهل هنا فرق بين العرف العام والعرف الخاص كما في القسم الأول وهو ما خالف فيه العرف النص الشرعي (قلت) لافرق بينهما هنا إلا من جهة أن العرف العام يثبت به الحكم العام والعرف الخاص يثبت به الحكم الخاص ( رسائل ابن عابدين، ج:2، ص:131۔132)


فتویٰ نمبر : 3009/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں