بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اپنا نكاح خود پڑهنا


سوال

 اگر  کوئی شخص اپنا نکاح دو گواہوں  کی موجودگی میں خود پڑھائے تو کیا  یہ نکاح صحیح ہوگا؟

جواب

           نکاح کی صحت کے لیے مردوعورت کا خود یا اپنی طرف سے کسی کو وکیل بنا کر ایجاب وقبول کرنا اور اس عقد پر  دو گواہوں کا مقرر کرنا ضروری ہے اگر متعاقدین خود گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کر لیں تو نکاح درست ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص  دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کر کے خطبہ نکاح خود پڑھے تو یہ شرعاجائز ہے،اس میں کوئی قباحت نہیں۔

 

النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول ۔ ۔ ۔ ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين،حرين،عاقلين،بالغين،مسلمين رجلين،أورجل وأمرأتين۔(الهداية، كتاب النكاح،ج:2، ص:325)


فتویٰ نمبر : 6388/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں