بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سلام پھيرنے كے بعدسجدہ سہو کا ياد آنا


سوال

اگر کسی شخص پر سجدہ سہو واجب ہو ليكن سلام پھیرنے کے بعد یاد آجائے  تو اس صورت میں نماز ادا ہوجائی گی یا نماز کا اعادہ کرے گا ؟

جواب

            سجدہ سہو تب  واجب ہوتا ہے جب نماز میں کوئی واجب  بھول کر چھوٹ جائے یا بھول کر نماز کے فرض  یا واجب میں  تاخیرہوجائے یا   واجب کا تکرار ہو جائے۔  

            صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کسی شخص پر سجدہ سہو لازم ہو جائے اور سجدہ سہو کیے بغیر سلام پھیر لے تو جب تک نماز کے منافی کوئی کام نہ کیا ہو تو سجدہ سہو کر سکتا ہے ،لیکن سجدہ سہو کرنے سے پہلے کوئی بات کرلی یا نماز کے منافی کوئی کام  کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔

 

وإذا سلم يريد به قطع الصلوة وعليه سجود السهو، فعليه أن يسجد للسهو، وبطلت نية القطع عند هم جميعا۔(الفتاوی التاتارخانیة،كتاب الصلوة،الفصل السابع عشر في سجود السهو،ج:1، ص:530)


فتویٰ نمبر : 9066/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں