بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گتہ یاردی کاغذ سے استنجا کرنا


سوال

بعض  اوقات پیشاب کی جگہ  ایسی  ہوتی ہے جہاں نہ پانی کا بندوبست ہوتا ہے نہ کوئی  ٹشو پیپر وغیرہ میسر ہوتا ہے  توایسی  صورت میں لوگ  گتہ یا ردی کاغذ استعمال کرتے ہیں ،تو کیا استنجا کے لیے اس کا استعمال کرنا جائز ہے  ؟

جواب

           ہر و ہ کاغذ جو لکھائی  کی غرض سے تیار کیا گیا ہو، چاہے موٹا ہو یابار یک ،آلہ علم ہونے کی بنا پر قابل احترام ہے ، لہذا اس سے استنجاء جائزنہیں، البتہ گتہ عام طور پر لکھائی کے لیے استعمال نہیں ہوتا یا ایسا کا غذ جو لکھنے کے لیے نہ بنایا گیا ہو، ردی کے طورپر  استعمال ہوتا ہو، تو ایسے کاغذ یا  گتہ کے اوپر اگر کچھ لکھا گیا نہ ہو یا کسی باعزت مقصد کے لیے استعمال نہ ہوتا ہو تو اس سے استنجا کرنا درست ہے جب کہ وہ نجاست کو زائل کرنے والی ہو۔

 

قوله: (وشيء، محترم) ۔ ۔ ۔  ويدخل أيضا الورق، قال في السراج: قيل: إنه ورق الكتابة، وقيل: ورق الشجر، وأيهما كان فإنه مكروه ۔ ۔ ۔ وكذا ورق الكتابة لصقالته وتقومه، وله احترام أيضا لكونه آلة لـكـتـابـة الـعـلـم ۔ ۔ ۔  وإذا كانت العلة في الأبيض كونه آلة الكتابة كما ذكرناه يؤخد منها عدم الكراهة فيما لا يصلح لها إذا كان قالعا للنجاسة غير متقوم ۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس،مطلب إذا دخل المستنجيءفي ماء قليل،ج:1،ص:552)


فتویٰ نمبر : 9067/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں