بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

کمپنی کا دکاندار کو رنگ كے ڈبے ميں موجود ٹوكن كے عوض اضافی رقم دینے كا حكم


سوال

میری پینٹ کی دکان ہے، مجھے  کمپنی با  لٹی 2000 روپے میں دے رہی ہے اس میں 500 روپے کا ٹوکن ہوتا  ہے، بعض خريدار كو اس كا علم ہوتا ہے اور بعض کو نہیں ،کاریگر اس کو لے کر دکاندار کو واپس کرتا ہے دکاندار 500 کے حساب سے لیتا ہے اور  کمپنی کو 550 کے حساب سے واپس کرتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ ٹوکن جائز ہے یا ناجائز ؟

جواب

             واضح رہے کہ  کمپنی   کا اپنی مصنوعات کی پیکنگ    میں  ٹوکن  رکھنے  کی شرعی حیثیت انعام اور تبرع کی ہےجو  شرعاً جائزہے ، بشرطیکہ ٹوکن رکھنے کی وجہ سے لوگوں کو دھوکہ اور لالچ دے کر کمزور معیار کی اشیاء فروخت نہ کی جائیں بلکہ اشیاء میں  معیار بھی  اپنی حالت پر برقرار رہے ،اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ دکاندار کمپنی کی طرف سے جتنی رقم ٹوکن کے عوض ادا کرے تو کمپنی سے اتنی ہی رقم وصول کرے کیونکہ کمپنی کی طرف سے رقم ادا کرنے کی وجہ سے اس کا کمپنی کے ذمے قرض(دین) چڑھ جاتا ہے چنا نچہ اس کی وصولی میں اضافہ سود کے حکم میں داخل  ہو کر ناجائز ہو گا ۔

                صورت مسؤلہ کے مطابق اگر دکاندار ٹوکن کو خریدار سے پانچ سو روپے کے حساب سے لیتا ہے اورکمپنی کو پانچ سو پچاس روپے کے حساب سے واپس کرتا ہے تو کمپنی کی طرف سے دکاندار کو ملنے والی اضافی رقم کی حیثیت سود بن جاتی ہے، لہذا دکاندار کے لئے ٹوکن پر لکھی ہوئی رقم سے زیادہ لینا جائز نہیں ،  البتہ اگر  کسی پیشگی معاہدہ و شرط کے بغیر کمپنی  خود سے قرض کی واپسی کے وقت قرض خواہ (دکاندار)کو کچھ زیادہ ادائیگی کردے اور اضافے کے ساتھ ادائیگی کا عرف نہ ہو تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا جو شرعاً جائز ہے تاہم یہ واضح رہے کہ قرض خواہ صراحۃً یا اشارۃً یا کنایۃً زیادتی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

 

عن عطاء بن يسار، عن أبي رافع، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكراً، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع، فقال: لم أجد فيها إلا خياراً رباعياً، فقال: أعطه إياه، إن خيار الناس أحسنهم قضاءً''۔(الصحيح لمسلم، باب من استسلف شيئا فقضى خيرا منه، وخيركم أحسنكم قضاء،ج:3،ص: 1224)

(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض(بدائع الصنائع،فصل في شرائط ركن القرض،ج:7،ص:395)


فتویٰ نمبر : 3003/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں