بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دوسرے شخص كی زمين پر تعمير كرنے کی رقم میں زكوة كا حكم


سوال

زید نے بکر کی زمین پر مارکیٹ بنائی ہے اور  یہ مارکیٹ زید کے پاس دس سال کےلیے رہے گی جس پر دس لاکھ روپے خرچہ آیا ہے اور  زیدنے   جو رقم مارکیٹ پر لگائی  ہےبکر اس رقم کو دس سال کی مدت کے کرایہ کے مقابلے میں کاٹے گا  اب  سوال یہ ہے کہ زید نے مارکیٹ کی تعمیر  پرجو رقم لگائی ہے اس پر زکو ۃ  ہے یا نہیں ؟

جواب

          شریعتِ مطہرہ کی رو سے اس بات کی اجازت ہے کہ کسی شخص کی ملکیتی زمین کو دوسرا شخص  اس کی اجازت سے بطورِ عاریت ( بلا عوض منافع )حاصل کرکے یابطور اجارہ حاصل کرکے اس پرکوئی تعمیر کرے  اور  ایسی صورت میں زمین کا مالک پہلا شخص ہو تا ہے جب کہ    دوسرا شخص  اپنے سرمایہ سے بنائی ہوئی تعمیر کا مالک ہو گا ۔

         لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق اگر زید نے بکر کی زمین پر مارکیٹ بنائی ہے اور اس تعمیر  پر دس لاکھ  روپے کا خرچہ آیا ہے  تو  زید نے اگریہ  عمارت بکر  کے لیے بنائی ہو یعنی عمارت کا مالک بکر ہو اور زید کا بکر کے ذمے عمارت کی رقم قرض ہو توزید پر قرض خواہ ہونے کی حیثیت سے اس رقم کی زکوۃ لازم ہو گی ،لیکن اگر تعمیر کی رقم بطور قرض نہ ہو بلکہ  متعین مدت تک  کرایہ  وغیرہ کی صورت میں استفادہ کرنے کی غرض سے اپنے لیے عمارت بنائی ہو چنانچہ عمارت کا مالک زید ہو اور پھر کچھ مدت بعد  اس کی ملکیت زمین کے مالک کی طرف منتقل  کی جائے گی تو ایسی صورت میں  زید کے ذمےزکوۃ لازم نہیں ہو گی۔

 

ولو كان الدين على مقر مليء أو معسر تجب الزكاة لإمكان الوصول إليه ابتداء أو بواسطة التحصيل ففي القوي تجب الزكاة إذا حال الحول ويتراخى الأداء إلى أن يقبض أربعين درهما ففيها درهم وكذا فيما زاد فبحسابه(فتح القدير،كتاب الزكوة،ج:2،ص:167)

وأما صفة الحكم فهي أن الملك الثابت للمستعير ملك غير لازم؛ لأنه ملك لا يقابله عوض، فلا يكون لازما كالملك الثابت بالهبة، فكان للمعير أن يرجع في العارية سواء أطلق العارية أو وقت لها وقتا، وعلى هذا إذا استعار من آخر أرضا ليبني عليها أو ليغرس فيها، ثم بدا للمالك أن يخرجه فله ذلك سواء كانت العارية مطلقة أو موقتة، لما قلنا غير أنها إن كانت مطلقة له أن يجبر المستعير على قلع الغرس ونقض البناء؛ لأن في الترك ضررا بالمعير؛ لأنه لا نهاية له، وإذا قلع ونقض لا يضمن المعير شيئا من قيمة الغرس والبناء؛ لأنه لو وجب عليه الضمان لوجب بسبب الغرور، ولا غرور من جهته، حيث أطلق العقد ولم يوقت فيه وقتا فأخرجه قبل الوقت، بل هو الذي غرر نفسه حيث حمل المطلق على الأبد۔(بدائع الصنائع،فصل في صفة الحكم في الإعارة،ج:6،ص:216)
لایجوز التصرف فی مال غیرہ بغیر إذنہ ولا ولایتہ(الأشباہ و النظائر، کتاب الغصب، 98/2)
 لو اشتریٰ الرجل داراً او عبداً للتجارۃ ثم آجرہ یخرج من ان یکون للتجارۃ ولو اشتریٰ قدوراً من الصفر یمسكها ویواجرهالا یجب فیها الزکاۃ کما لا یجب فی بیوت الغلةکذا فی فتاویٰ قاضی خان۔ (مجموعة الفتاوی،کتاب الزکوٰۃ،ج:1،ص:363)


فتویٰ نمبر : 9124/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں