بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تین شعبان کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی مبارکباد دینا


سوال

 تین شعبان کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی مبارکباد دینا یا ولادت حسین مبارک کے سٹیٹس لگانے کا شرعاً کیاحکم ہے ؟ کیا اس قسم کے سٹیٹس لگانے سے اہل تشیع کی مشابہت اور انکے عقائد کی تعظیم لازم آئےگی ؟

جواب

           حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اوصاف و محاسن اور عبادات کا ذکر یقیناً مستحسن ہے ، اور  نواسہ رسول کی دنیا میں آمد پر ہر مسلمان کا خوش ہو نا فطری امر ہے جس سےانکار ممکن نہیں ، البتہ اس پر خوش ہونے کا وہی طریقہ اختیار کر نا جائز ہے جو محسن کائنات ﷺ سے ثابت ہو ، یا صحابہ و تابعین نے اس پر عمل کیا ہو ، چونکہ اہلِ تشیع کی مروجہ مبار کبادی کا ثبوت قرآن و حدیث اور صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین میں سے کسی سے نہیں ہے ، بلکہ یہ ساری چیزیں  بعد کے لوگوں کی ایجاد کردہ ہیں ، اور بدعات میں شامل ہیں ، لہذا ان کا ترک کرنا لازم ہے۔

           لہذا تین شعبان کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی مبارکباد دینا یا ولادت مبارک کے سٹیٹس لگانے سے احتراز کرنا چاہیے تا کہ لوگ اس کو نیک کام سمجھ کر عبادت کی نیت سے شروع نہ کر دیں اور اگر یہ عمل خاص فرقے کا شعار بن چکا ہو تو ان کی مشابہت اختیار کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔

 

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس

منه فهو رد۔ (الصحيح لمسلم ، باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور ،رقم الحديث: 1718، ج: 3، ص1343(

من تشبه بقوم‘‘ :أي من شبه نفسه بالكفار مثلاً في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل

التصوف والصلحاء الأبرار (فهو منهم): أي في الإثم والخير، قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار،

ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، كتاب اللباس, ج:7، ص:2782(


فتویٰ نمبر : 4989/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں