بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 16/08/2026 |
دارالافتاء
ذہن میں طلاق کے الفاظ کا خیال آنا
سوال
ایک شخص کوکبھی ہر بات میں طلاق کی سوچ آتی رہتی ہے، البتہ طلاق کے صریح یا کنائی الفاظ زبان سے ادا نہیں کی ہیں اورنہ ہی لکھے ہیں۔ ایک دن اسی نے اپنی بیوی کو واٹس ایپ میسج میں ایک عموجی (کارٹون نما بندہ) کا تصویر بھیجا جو پستول سے گولیاں چلا رہا تھا، میسج بھیجتے وقت دل میں کچھ خیال نہیں تھا،البتہ میسج بھیجنے کے بعداس کو ذہن میں خیال آیا کہ "اس (عموجی) کی ہر گولی کے ساتھ بیوی کو طلاق کے الفاظ"،یہ خیال میسج بھیجنے کے بعد آیا ۔ لیکن بیوی نے میسج کو ان سب کچھ کے بعد دیکھاتھا۔1: کیا اس خیال سے طلاق ہوا ہے یا نہیں؟ طلاق کےنہ صریح الفاظ استعمال کئے ہیں نہ ہی نیت اور ارادہ تھا ؟2:اگر اس خیال کے ساتھ نیت بھی شامل ہوتی تو کیا طلاق واقع ہو جاتی؟3:کیا یہ گولیاں چلاتا بندہ کسی بھی طرح طلاق کے کنائی معنی میں آتا ہے؟
جواب
انسان کے ذہن میں اختیاری اورغیر اختیاری طور پر مختلف قسم کے خیالات اور وسوسے آتے رہتے ہیں ،ان پر شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا۔طلاق کے وقوع کے لیے زبانی تلفظ ضروری ہے۔محض شک اور وسوسہ کی بنا پر طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں چونکہ مذکورہ شخص نےزبان سے نہ طلاق کےصریح الفاظ استعمال کیے ہیں اور نہ ہی کنائی ،لہذامحض وسوسہ اور ذہنی خیال آنے کی وجہ طلاق واقع نہیں ہوتی اگرچہ اس خیال کے ساتھ نیت بھی کیوں نہ کی ہو،اس لیے کہ شرعاً وقوع طلاق کے لیے کلمات طلاق کی ادائیگی ضروری ہے۔اسی طرح عموجی (کارٹون نما بندہ)کی تصویر بھیجنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اور نہ گولیاں چلاتا بندہ طلاق کے کنائی معنی میں آتا ہے۔
أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،ركن الطلاق،3/230)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں