بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرس كادرس كے دوران موبائل استعمال کرنا


سوال

مدرسين كے ليے  دوران درس ويڈيو والا موبائل استعمال  كرنا  شرعاً  کیسا ہے ،کیا خیانت کے زمرے میں نہیں   آتا؟

جواب

               مدرسے کا مدرس اجیر خاص  کے حکم میں ہوتا ہے اور اجیر خاص مقرر وقت میں  مفوضہ ذمہ داری کے لیے حاضر  ہونے پر اجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے ،لہذا مقرر ه وقت میں متعین کام  کے علاوہ کوئی اور مصروفیت اختیار نہیں کر سکتا ۔

          صورت مسٔولہ میں مدرس اجیر خاص ہے ،اس لیے متعین وقت میں بچوں کی تعلیم اور تربیت میں  کسی قسم کی کوتاہی  کرنا   جائز نہیں۔  چونکہ دوران تعلیم   موبائل استعمال کرنا بچوں کے اسباق میں کوتاہی ہوتی ہے، اس لیے دوران تدریس اس کے استعمال سے اجتناب کرے۔

 (الخاص)۔۔۔(وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار،كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير،ج:9،ص:94)

وإذااستأجر رجلا يوما ليعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلی تمام المدة، ولا يشتغل بشيئ آخر سوی المكتوبة۔(الفتاوی الهندية،كتاب الإجارة، الباب الثالث في الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة،ج:4،ص،447)


فتویٰ نمبر : 4953/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں