بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی کو گاڑی دے کر نفع ونقصان میں شریک ہونا


سوال

 ایک شخص نے باہر مالک قطر میں ایک گاڑی خریدلی ہے، اس نے اس گاڑی کے لیے ایک ڈرائیور رکھا ہے ،لیکن کچھ شرائط پر یہ گاڑی دیا ہے، یعنی مالک کے رأس المال ہے اور ڈرائیور کا عمل ہے، دونوں نے باہم رضامندی سے یہ شرط لگائی ہے کہ اس گاڑی کے نفع اور  نقصان میں ہم دونوں برابر کے شریک ہوں گے یعنی اس گاڑی میں اگر کوئی  چیز خراب ہوئی تو دونوں  مشترکہ بنائیں گے، اب اس میں ایک اضافی شرط لگائی ہےوہ یہ کہ اس گاڑی کا انجن بہت قیمتی  ہے،اگر انجن خراب  ہو گیا تو اس صورت میں  تعاون گاڑی کے مالک پر ہو گا، ڈرائیور اس تعاون سے بری ہوگا کیااس   طرح شرکت یا مضاربت جائز ہے؟

جواب

                     واضح رہے کہ مضاربت کی صحت کی شرائط میں  سے ایک شرط یہ ہے کہ رأس المال نقد  یعنی  دراہم  ،دنانیر  اور یا مروجہ کرنسی ہو، کسی عین میں مضاربت درست نہیں ۔

             لہذا صورت مسٔولہ  میں   کوئی  گا ڑی خرید کر دوسرے کو دینا اور نفع ونقصان میں برابر شریک ہو نا  درست نہیں۔ البتہ یہ اجارہ کی صورت اختیار کر سکتی ہے  کہ گاڑی چلان  کے لیے  دوسرے شخص کو  اجیر بنا لے اور اس  کے لیے متعین  اجرت مقرر کر لے، تا ہم اس صورت میں گاڑی میں ہونے  والے نقصان کا ذمہ دار گاڑی کا مالک ہو گا، ڈرائیور پر  اس نقصان  کی شرط لگانے سے اجارہ  فاسد ہوگی۔

     وأما شرائط الصحة فكثيرة۔۔۔منها أن يكون  رأس المال دراهم أو دنانير عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى وعند محمد رحمه الله تعالى أو فلوسا رائجة حتى إذا كان رأس مال المضاربة ما سوى الدراهم والدنانير والفلوس الرائجة لم تجز المضاربة إجماعا۔۔۔ ولا تجوز بالذهب والفضة إذا لم تكن مضروبة في رواية الأصل۔(الفتاوی الهندية،كتاب المضاربة،الباب الاول في تفسيرها،وشرائطها،وركنها،ج:4،ص:286)

(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أومدة أو عمل۔(الدرالمختارعلی صدر ردالمحتار،كتاب الإجارة،باب الإجارةالفاسدة،ج:9،ص:64)

 وتطيين الدار وإصلاح ساريها وما وهي من ثيابهاعلی رب الدار من المستأجر،لأن إصلاح الملك علی المالك۔(برهان الدين محمود بن أحمد البخاري،المحيط البرهاني في الفقه النعماني،كتاب الإجارات،الفصل السادس عشر:فيما يجب علی المستأجروفيما يجب علی الأجير،ج:9،ص:203)


فتویٰ نمبر : 2998/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں