بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حرام کمائی مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا


سوال

ہمارے گاؤں کی  مسجد بن رہی تھی، تو ہمارے  محلے  میں ایک شخص  نے اپنے ایک رشتہ دار (جس کے بارے میں اکثر لوگوں کو پتہ ہے  کہ اس کی تمام آمدنی حرام کی ہے)  سے مسجد میں مالی معاونت کی سفارش کی ، تو کیا اس حرام آمدنی کو مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

             مسجد خداکا مقدس اور پاکیزہ گھر ہے ثواب کی نیت سے اس میں رقم خرچ کی جاتی ہے اور ثواب کے حصول کے لیے مال کا حلال ہونا اور ہر قسم کے خبث سے پاک ہونا ضروری ہے ، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ ہر قسم حرام کمائی خواہ سود کے پیسے ہو یا چوری وغیرہ کے  مسجد میں استعمال کرنا ممنوع ہے لہذا تعمیر مسجد کے لیے حرام اور مشتبہ مال نہیں لیناچاہیے اگر کسی نے دے دیا تو اس کو واپس کردیا جائے۔

                 صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی مذکورہ  شخص کی آمدن کے تمام ذرائع حرام مال کے ہوں ،تو اس کے پیسوں کو مسجد کی تعمیر میں استعمال نہ کیا جائے۔

قال تاج الشریعۃ:اما لو انفق في ذالك مالا خبيثا و مالا سببه الخبيث و الطيب فيكره لان الله تعالى لا يقبل الا الطيب ، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله (رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الصلوة، با ب ما يفسد الصلاة و يكره فيها ج:2 ،ص431)


فتویٰ نمبر : 4951/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں