بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ملازمت ميں غفلت كرنے کے پنشن پر اثرات


سوال

ایک سرکاری ملازم دوران ملازمت اپنی ڈیوٹی میں غفلت  کرتا ہے تو  شرعی لحاظ سے اس کی تنخواہ ٹھیک نہیں ہوگی لیکن یہ  ملازم جب  اپنی ملازمت پوری کرے تو ریٹائر منٹ  کے بعد حکومت کی طرف سے چالیس پچاس لاکھ فنڈز اور پچاس ہزار روپے ماھانہ پنشن تا حیات جاری کر دی جاتی ہے ،  اس فنڈ اور ماھانہ پنشن پر   شرعی لحاظ سےاثر پڑے گا یا نہیں ؟

جواب

           واضح رہے کہ ملازمین یا ان کے  انتقال  کےبعد ان کے لواحقین کو  ملنے والی پنشن کی رقم  متعلقہ ادارہ کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہےجو کہ ملازم کو اپنی ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد پنشن  کی صورت میں جاری کر دی جاتی ہے اور یہ محکمہ کی طرف سے ملازم کی طویل کارکردگی پر گویاانعام ہوتاہے ۔

          لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر ملازم  دوران ملازمت غفلت کرتا رہے تو ملازمت کے دوران غفلت اور کوتاہی  کے بقدر اجرت لینا  نا جائز ہےاور جو رقم اس طرح نا جائز طریقے سے حاصل کی ہو وہ متعلقہ ادارے کو واپس کرنا  ضروری ہے تاہم  ریٹائر منٹ  کے بعد حکومت کی طرف سے جو پنشن کی رقم جاری کر دی جاتی ہے وہ تبرع  اور  عطیہ ہے لہذا  اس رقم کو  اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ۔

 

كتاب الهبة وجه المناسبة ظاهر (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال.وشرعا:(تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه۔(الدر المختار على صدرردالمحتار،كتاب الهبة،ج:6،ص:24)

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه".(رد المحتار على الدر المختار، مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج:5،ص:99)

 


فتویٰ نمبر : 5005/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں