بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کے نام پر خریدی ہوئی زمین کو فروخت کرنا


سوال

 اگر کوئی شخص  مدرسہ کے لئے ایک جگہ متعین کرے اور چندہ کرکے زمین  بھی خرید ے ابھی تک  تعمیر کی نوبت نہ آئی تھی کہ دوسری جگہ زمین پسند کرلی گئی ۔پہلے والی زمین کو فروخت کرکے دوسری جگہ  زمین خریدی گئی اب مدرسہ کی عمارت تعمیر  ہوگئی ہےکیا یہ تبدیل جائز ہےاگر نہیں تو کیا کیا جائے؟

جواب

           واضح  رہے کہ  وقف تام ہونے کے بعد وقف شدہ زمین سے جب تک  متعلقہ مصرف میں فائدہ اٹھانا ممکن ہو تو کسی دوسری زمین سے  اس کا استبدال جائز نہیں۔اور وقف تام  ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم از کم ایک مرتبہ  استعمال ہو جائے ،چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین  کا وقف اس وقت تام متصور ہو گا جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہو جائے ۔تاہم  ایسی زمین  کہ جو لوگوں کی چندہ سے مدرسہ کے لیے خریدی گئی ہو لیکن اس میں تعلیمی سلسلہ شروع نہ چکا ہو تو  وقف   تام نہ ہونے  کی وجہ سےاس میں تبدیلی کی اجازت ہے۔

          صورت مسئولہ  میں اگر سائل نے صرف تعین کر کے مدرسہ کے لیے زمین خریدی ہو لیکن تعلیمی سلسلہ اس میں شروع نہ کیا ہو تو شرعااس کو فروخت کر کے دوسری جگہ زمین خریدنے کی گنجائش ہے۔  

 

قوله (والملك يزول بالقضاء لا إلى مالك) أي ملك العين الموقوفة يزول عن ملك المالك بقضاء القاضي بلزوم الوقف من غير أن ينتقل إلى ملك أحد وهذا أعني اللزوم بالقضاء متفق عليه لأنه قضاء في محل الاجتهاد فينفذ۔ ۔ ۔ وعند محمد لا بد من التسليم إلی المتولي والإفرازوالتابيد(البحرالرائق،کتاب الوقف،ج5،ص328)

وعند محمد لا يزول ملك الواقف الا بالتسليم الي المتولي او إلی الموقوف عليه۔۔۔ حتی ان علی قوله لو لم يسلم الوقف إلی المتولي لا يزول ملكه فله ان يرجع في ذلك واذا مات يورث عنه۔(الفتاوي التاتارخانية،كتاب الوقف ، الفصل الثاني ،ج8 ،ص10)

والحاصل ان التسليم علي قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون باحدي طريقتين: إما باثبات اليد للقيم عليها او لحصول المقصود وذلك في السكني في مسئلة الدار وبالنزول في مسئلة الخان وبالفن في مسئلة القبروما اشبه ذلك۔( الفتاوي التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج8،ص185)                                                                                               


فتویٰ نمبر : 5038/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں