بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں مو بائل استعمال کرنا


سوال

سوال:آج کل  مساجد  کے اندر دیندار طبقہ  مثلاً علماءِ کرام ، حفاظ کرام ،اور تبلیغی احباب ویڈیو موبائیل اِستعمال کرتے ہیں،جس میں یو ٹیوب، فیس بک اور واٹس اپ کا استعمال  زیادہ ہوتا ہے، جس میں جاندار کی تصویریں اور نا محرم عورتوں کے تصاویر بھی آجاتے ہیں، کیا مساجد کے اندر اِن احباب کے لیے ویڈیو والا موبائیل استعمال کرنا  شرعاً کیسا ہے؟

جواب

           مسجد اللہ تعالی کی عبادت اور ذکروفکر کے  لیے مخصوص ہے، اس لیے مسجد کے  آداب  کی رعایت رکھنا  ضروری ہے۔ جس  عمل سے اس کی بے ادبی اور بے احترامی ہوتی ہو، اس سے اجتناب  لازم    ہے ۔

          صورت مسؤلہ کے مطابق مسجد میں  بلا ضرورت حتی الوسع موبائل کے استعمال سے اجتناب  کرنا چاہیے، لیکن اگر استعمال  کی ضرورت پیش آئے تو بقدر ضرورت استعمال کی  گنجائش ہو گی، اس صورت  میں اگر  سکرین پر منکرات  جیسے عورتوں کی تصاویر وغیرہ نمودار ہو جائیں تو نظر فجاءۃ کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہوگا ، البتہ اس کو فوراً    ختم کیا جائے، جبکہ فیس بک یادیگر ایپلی کیشنز جن میں غیر اختیاری طور پر منکرات بھی سکرین پر   آتے ہوں، تو مسجد میں    ان کے استعمال  سے  اجتناب  بہر حال ضروری ہے ۔   

  عن جرير بن عبد الله قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن نظرة الفجأة فأمرني أن أصرف بصري ۔(سنن الترمذي،كتاب الأدب،باب ماجاء فی نظرۃ الفجاءۃ،رقم الحدیث:2776)

وصرح في الظهيرية بكراهة الحديث أي كلام الناس في المسجد لكن قيده بأن يجلس لأجله۔۔۔أما إن جلس للعبادة ثم بعدها تكلم فلا۔(البحرالرائق،كتاب الصلوة،باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها،فصل كره استقبال القبلة،ج:2،ص:63)

الكلام المباح من حديث الدنيا يجوز في المساجد وإن كان الأولى أن يشتغل بذكر الله تعالى۔۔۔ قال في المصفى: الجلوس في المسجد للحديث مأذون شرعا لأن أهل الصفة كانوا يلازمون المسجد وكانوا ينامون، ويتحدثون۔(( ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الصلوۃ،باب ما یفسدالصلوۃ وما یکرہ فیہا،مطلب فی الغرس فی المسجد،ج:1،ص:662)


فتویٰ نمبر : 4949/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں