بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

توبہ کے بعد دوبارہ گناہ سرزد ہونے کا حکم


سوال

اگركسی انسان کی زندگی میں پانچ، چھ گناہ کبیرہ ہوئے ہوں اور وہ سب سے توبہ کرنا چاہے تو کیسے کرے؟ کیا سب کبیرہ گناہوں کا الگ الگ سے نام لے کر الگ الگ توبہ کرنا پڑے گا؟ اورتوبہ کے بعد اگر ان پانچ، چھ گناہوں میں سے کسی گناہ کا ارتکاب پھر سے ہو  جائے تو کیا سبھی گناہوں سے کی ہوئی توبہ ٹوٹ جائےگی یا صرف اسی گناہ کی؟ اور اگر اس سے ان گناہوں کے علاوہ کوئی اور گناہ سرزد ہو جائے تو کیا اس سے توبہ ٹوٹ جائے گی؟ اور اگر انسان سارے گناہوں سے توبہ کر لے پھر بھی بتقاضائے بشریت کوئی گناہ سرزد ہو ہی جاتاہےتو بندےکو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

        ہر گناہ کا نام لے لے کر توبہ کرنا بھی کرنا بھی درست ہے  اور بہتر بھی یہی ہے ، البتہ اگر ایک ساتھ سب گناہوں سے توبہ کر لی تب بھی درست ہے البتہ توبہ میں ضروری ہے کہ:

  1. اس گناہ کو فورا چھوڑ کر  اس سے الگ ہو جائیں۔
  2. اللہ کے سامنے ندامت اور شرمندگی کے ساتھ اس سے گناہ کی معافی مانگیں۔
  3. آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کر لیں۔
  4. اگر گناہ حقوق العباد سے متعلق ہو تو متعلقہ شخص سے معافی بھی مانگیں اور اگر اس کا کوئی مالی حق ہے تو اس کو بھی ادا کریں، اور اگر وہ گناہ حقوق اللہ سے متعلق ہو اور اس کی قضا ممکن ہو تو معافی کے ساتھ اس کی قضا کریں۔

2) اگر کسی  نے پانچ چھ گناہوں سے ايك ہی مرتبہ سے توبہ کر لی ہے اور ان پانچ چھ گناہوں میں سے کوئی ایک گناہ دوبارہ سرزد ہو جائے تو صرف اس گناہ کی توبہ ٹوٹے گی باقی گناہوں کی توبہ نہیں ٹوٹے گی۔

3) توبہ کرنے کے بعد اگر دوبارہ گناہ سرزد ہو جائے تو اوپر درج طریقہ کے مطابق دوبارہ توبہ کرلیا جائے، خواہ جتنی مرتبہ بھی گناہ سرزد ہو جائے توبہ کا دروازہ موت کے وقت تک بند نہیں ہوتا لہذا  ندامت اور پشیمانی کے ساتھ اللہ سے توبہ کریں ، اور ہر مرتبہ توبہ کرتے وقت سچی ندامت ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو،  اللہ تعالی کی رحمت سے امید ہے کہ وہ گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ حدیث شریف کا ترجمہ ہے کہ: "ہر بنی آدم (انسان) بہت خطا کار ہے، (لیکن اللہ تعالی کے نزدیک) بہترین خطاکار وہ ہےجو کثرت سے توبہ کرنے والا ہو"۔

 

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيم. (الزمر، آيت:53)

عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: التائب من الذنب، كمن لا ذنب له. (سنن ابن ماجه، باب ذكر التوبة، رقم الحدیث: 4250، ص: 320)

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم، ولجاء بقوم يذنبون، فيستغفرون الله فيغفر لهم. (صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب سقوط الذنوب بالاستغفار توبة، رقم الحدیث: 2749)

عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل بني آدم خطاء، وخير الخطائين التوابون (سنن ابن ماجه، باب ذكر التوبة، رقم الحديث: 4251)


فتویٰ نمبر : 4979/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں