بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پولیس کا ملزم کے متعلق طلاق کا جھوٹا سوال و جواب بنانا


سوال

کسی مجرم کی تفتیش میں سوال جواب اس طرح لکھے جاتے ہیں جیسے اس سے اصل میں پوچھتے ہیں ۔مثال کے طور پر مجرم سے پوچھا گیا سوال:- کیا تم شادی شدہ ہو؟ جواب:- نہیں میری طلاق ہوگئی ہے۔ اب اگر تفتیشی آفیسر مجرم سے ذاتی نفرت رکھتا ہو اور جان بوجھ کر اپنی طرف سے جھوٹا سوال اور جواب مندرجہ ذیل الفاظ پر مبنی لکھ دے سوال:- تم نے بیوی کو طلاق کس طرح دی؟ جواب:- میں نے بیوی کو کہا میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں۔ مفتی صاحب کیا اس طرح کا جھوٹا سوال اور جواب تحریر کرنے والا تفتیشی آفیسر کا نکاح  بدستور قائم رہے گا یا  وہ خود بھی طلاق یافتہ کہلائے گا کیونکہ میں نے سنا ہے کہ  مندرجہ بالا الفاظ کا تکلم یا تحریر بغیر نیت بھی ہو جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

جواب

              واضح رہے کہ طلاق کے وقوع کے لیے بیوی کی طرف حقیقی یا معنوی نسبت کا ہونا ضروری ہے، بغیر نسبت کے طلاق کے الفاظ کہنے یا کسی کی حکایت اور قول کو نقل کرنے سے  طلاق واقع نہیں ہوتی۔

        صورت مسؤلہ کے مطابق تفتیشی افسر کا مجرم  کی جانب سے جھوٹا سوال اور جواب تحریر کرنے میں لکھنے والے کی بیوی کو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

حكى يمين رجل فلما بلغ إلى ذكر الطلاق خطر بباله امرأته إن نوى عند ذكر الطلاق عدم الحكاية واستئناف الطلاق وكان موصولا بحيث يصلح للإيقاع على امرأته يقع لأنه أوقع وإن لم ينو شيئا لا يقع لأنه محمول على الحكاية( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق ، الباب الاول ، فصل فيمن يقع طلاقه، ج:1،ص:353 )

كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته۔ ( ردالمحتار على الدر المختار ، كتاب الطلاق ، باب الصريح الطلاق ، ج:4،ص: 461)


فتویٰ نمبر : 6386/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں