بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مشروط منت پوری کرنے کا وقت


سوال

زید بیمار ہوا اور اس کو خطر ناک بیماری لگ گئی زید کی مالی حالت انتہائی کمز ور ہے ۔ زید نے کہا کہ اے اللہ توا گر مجھے صحت دیدے تو میرے پاس جب بھی پانچ لاکھ روپے سرمایہ آیا میں اس میں سے ایک لاکھ روپے صدقہ کر دونگا۔اللہ کی شان کچھ عرصہ بعد زید کو صحت مل گئی اب زید کےلئے کیا حکم ہے کب اپنی منت پوری کرے گا؟

جواب

                      اگر کوئی شخص نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق کر دے تو جب کبھی وہ  شرط پوری ہو گی اس کے لیے نذر پوری کرنا ضروری ہو جائے گا۔

                 صورتِ مسئولہ کے مطابق زید نے پانچ  لاکھ روپے  سرمایہ آنے کی شرط لگائی ہے، لہٰذا جب بھی زید پانچ لاکھ روپے کا مالک بنے گا تو اس وقت زید کے لیے اپنی نذر پوری کرنا واجب ہو جائے گی۔

(ووجد الشرط )المعلق به ( لزم الناذر) لحديث "من نذر فعليه الوفاء بما سمى"( كصوم و صلوة و صدقة)۔(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الايمان،ج5،ص516،517)

وإن كان معلقاً بشرط نحو أن يقول : إن شفي الله مرضي ، أو إن قدم فلان الغائب ، فلله علي أن أصوم شهراً  أو أصلي ركعتين أو أتصدق بدرهم ونحو ذلك ، فوقته وقت الشرط ، فمالم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع ۔(بدائع الصنائع، كتاب النذر، فصل في حكم النذر، ج6، ص358)


فتویٰ نمبر : 9053/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں