بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/08/2026

دارالافتاء

 

جہری نمازوں میں مسنون قراءت


سوال

جہری نمازوں میں دنوں ( ہفتہ، اتوار، وغیرہ ) کے اعتبار  سےکتنی قراءت اور کون سی قراءت مسنون ہے؟

جواب

             قراءت سے مراد قرآن کریم کے کسی بھی حصے کی تلاوت ہے، حنفیہ کے ہاں سنن، نوافل اور وتر کی تمام رکعتوں اور فرض کی اولین دو رکعتوں میں قراءت کرنا فرض ہے، قراءت کی کم از کم مقدار کے بارے میں امام صاحبؒ کا راجح قول یہ ہے کہ ایک آیت ہی رکن قراءت کے لیے کافی ہے، تاہم یہ آیت کم از کم دو کلمات  پر مشتمل ہونی چاہیے، جیسے: (ثم نظر)البتہ ایک کلمہ پر مشتمل آیت جیسے: (مدھامتان) یا چند حرووف پر مشتمل آیات مثلاً( قٓ، صٓ، حمٓ) وغیرہ کی قراءت فرض ادا ہونے کے لیے کافی نہیں۔ صاحبینؒ کے ہاں ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات فرض کی ادائیگی کے لیے کافی ہیں۔ البتہ  نماز میں قراءت کی مسنون مقدار سے متعلق تفصیل یہ  ہے کہ:

 اگر نمازی مقیم ہواور وقت میں بھی گنجائش ہو تو اس کے لیے مسنون یہ ہے کہ فجر وظہر کی نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں میں طوالِ مفصل(سورۃ حجرات سے سورۃ بروج تک)،عصراور عشاء کی نماز میں میں اوساطِ مفصل (سورۃ طارق سے سورۃ لم یکن تک)اور مغرب کی نماز میں قصارِ مفصل (سورۃ زلزال سے آخر قرآن تک)پڑھے۔

اگر نماز ی سفر میں ہو اور سفر جاری ہو تو سورۂ فاتحہ کے بعد حسبِ سہولت جو سورت  پڑھنا چاہے پڑھے، خواہ وہ  مختصر سے  مختصر کیوں نہ ہو اور خواہ وہ کوئی بھی نماز ہو۔

اگر نمازی مسافر ہو؛ لیکن کسی جگہ اطمینان کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہو تو نماز فجر وظہر میں طوال مفصل میں سے چھوٹی سورتیں، نماز عصر وعشاء میں اوساطِ مفصل کی چھوٹی سورتیں اور نماز مغرب میں قصارِ مفصل کی چھوٹی سے چھوٹی سورتیں پڑھنا مستحب ہے۔

فقہاء کرام نے آپ ﷺ کی نمازوں میں قراءت سے متعلق مختلف احادیث کی روشنی میں  پنج وقتی نمازوں میں قراات کی مسنون مقدار یہ نقل کی ہے، اس کے علاوہ مختلف مواقع پر آپ ﷺ کا مختلف سورتوں کے پڑھنے کا معمول بھی رہا ہے، اور بعض مواقع پر بعض سورتوں کی فضیلت بھی وارد ہے ، ان میں سے چند درج ذیل ہیں :

 حضرت ابوہریرہ  ؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ جمعہ کے روز نماز فجر کی پہلی رکعت میں الم تنزیل (حم سجدہ) اور دوسری رکعت میں (سورۃ دھر) پڑھتے تھے۔

حضرت جابر بن سمرہ  ؓ  فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ شبِ جمعہ  کی مغرب کی نماز میں سورۃالکافرون  اور سورۃاخلاص پڑھا کرتے تھے۔

حضرت عبدالعزیز بن جریج  ؓ  فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ   ؓسے پوچھا کہ سرور کونین ﷺ وتر میں کون کون سے سورتیں پڑھا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ " آپ ﷺ پہلی رکعت میں (سَبِّحِ اسْم رَبك الْأَعْلَى)  دوسری رکعت میں (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ)  اور تیسری رکعت میں (قُلْ هُوَ اللَّهُ أحد) اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرتے تھے۔

(ومنها القراءة) وفرضها عند أبي حنيفة - رحمه الله - يتأدى بآية واحدة وإن كانت قصيرة. كذا في المحيط وفي الخلاصة وهو الأصح. كذا في التتارخانية والمكتفي بها مسيء. كذا في الوقاية ثم عنده إذا قرأ آية قصيرة هي كلمات أو كلمتان نحو قوله تعالى {ثم قتل كيف قدر} [المدثر: 20] {ثم نظر} [المدثر: 21] يجوز بلا خلاف بين المشايخ فلو قرأ آية هي كلمة واحدة ك {مدهامتان} [الرحمن: 64] أو آية هي حرف كصاد نون قاف فيه اختلاف بين المشايخ. كذا في المصفى والأصح أنه لا يجوز. كذا في شرح المجمع لابن الملك وهكذا في الظهيرية والسراج الوهاج وفتح القدير.

( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوٰۃ، الباب الرابع فی صفۃ الصلوٰۃ، الفصل الأول فی فرائض الصلوٰۃ، ج:1، ص: 126)

(ويسن في السفر مطلقا) أي حالة قرار أو فرار، كذا أطلق في الجامع الصغير، ورجحه في البحر.ورد ما في الهداية وغيرها من التفصيل، ورده في النهر، وحرر أن ما في الهداية هو المحرر (الفاتحة)وجوبا (وأي سورة شاء) وفي الضرورة بقدر الحال (و) يسن (في الحضر) لامام ومنفرد، ذكره الحلبي،والناس عنه غافلون (طوال المفصل) من الحجرات إلى آخر البروج (في الفجر والظهر، و) منها إلى آخر - لم يكن - (البينة: 1) (أوساطه في العصر والعشاء، و) باقيه (قصاره في المغرب) أي في كل ركعة سورة مما ذكر، ذكره الحلبي،(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، فصل فی القراأۃ، ج:2، ص:258)

وعن أبي هريرة قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقرأ في الفجر يوم الجمعة ب ( الم تنزيل )

 في الركعة الأولى وفي الثانية ( هل أتى على الإنسان )  ( مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الصلوٰۃ، باب القراأۃ فی الصلوٰۃ، الفصل الأول ، ج:1،ص:85)

وعن جابر بن سمرة قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقرأ في صلاة المغرب ليلة الجمعة : ( قل يا أيها الكافرون )

 و ( قل هو الله أحد ) (مشکوٰۃ المصابیح، باب القراأۃ فی الصلوٰۃ، الفصل الثانی، ج:1 ،ص:86)

عن عبد العزيز بن جريج، قال: سألنا عائشة، بأي شيء كان يوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: " كان يقرأ في الأولى: بسبح اسم ربك الأعلى، وفي الثانية بقل يا أيها الكافرون، وفي الثالثة بقل هو الله أحد، والمعوذتين " ( جامع الترمذی، کتاب الصلوۃ،ابواب الوتر، باب ما جآء ما یقرأ فی الوتر، ج:1،ص: 106)


فتویٰ نمبر : 9062/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں