بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

انشائے سفر سے وطن اقامت کا بطلان


سوال

 ایک شخص وطن اقامت سے شرعی سفر اٹھتر (78) کلو میٹر پر نکلا، اب جب یہ واپس سفر سے اپنے وطن اقامت میں پہنچا، اب دریافت طلب امر یہ ہے  کہ کیا جمہور فقہاء احناف کے نزدیک پہلا والا وطن اقامت باطل ہوا یا نہیں ، اور اب   یہ  سرے سے پندر ہ(15) دن کی نیت کرے گا یا نہیں ؟ واضح رہے کہ یہ شخص وطن اقامت سے سفر میں جو اس کی ضرورت کا سامان تھا، وہ وطن ا قامت میں پڑا تھا محض کسی کام کے پیش نظر سفر کر ناپڑا۔

جواب

                    شرعی نقطہ نظر سے جب ایک شخص مسافت سفر اڑتالیس(48) میل، یعنی اٹھتر (78) کلو میٹر کی نیت سے نکلتا ہے تو اپنے شہر کی حدود سے نکل کر مسافر شمار ہو گا اور اس وقت تک مسافر متصور ہو گا، جب تک شہر کی حدود میں لوٹ کر داخل نہ ہو جائے یاکسی دوسرے شہر یا بستی میں پندرہ دن یازائد ٹھہر نے کی نیت نہ کرے ۔ ٹھہرنے کی یہ دوسری جگہ وطن اقامت کہلاتی ہے اور وطنِ اقامت وطنِ اصلی ، وطنِ اقامت اور انشاے سفر تینوں سے باطل ہو جاتا ہے ، جیسا کہ فقہ کے متون اور دوسری کتب میں مذکور ہے، لیکن وطنِ اقامت کے بطلان کے صحیح اسباب معلوم کرنے کے لیے فقہاے کرام کی عبارتوں کا سہارالیناضر وری  ہے ، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان اسباب سے وطن ِاقامت کے بطلان کی اصل منشا کیا ہے ، چنانچہ علامہ کاسائی فرماتے ہیں کہ وطن ِاقامت کے بطلان کے اسباب اس وقت موثررہیں گے ،جب اس بات کی دلالت پائی جائےکہ وطن اقامت میں ٹھہر نے کی ضرورت باقی نہیں رہی اور جس حاجت کے لیے ٹھہر اتھا، وہ پوری ہو گئی۔ اس لیے وطنِ اقامت والا آدمی اگر کسی ضروری کام کو نبھانے کے لیے وطن اصلی یا کہیں اور سفر شرعی کی نیت سے دو چار دن لگا کر واپس وطن اقامت لوٹ آئےتو اس سے وطن ِاقامت باطل نہ ہو گا ، اسی علت کی بنا پر جب تک ایک شخص کا سامان و غیر ہ وطن ِاقامت میں پڑا ہے تو وہ جب بھی آئےگا ، مقیم متصور ہو گا۔

        مذکورہ وضاحت سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ فقہا کی عبارت میں انشاے سفر سے مراد وطن ِاقامت سے مکمل اعراض ہے، یعنی جب تک انشاے سفر کی نیت سے اس علاقے کو مکمل طور پر چھوڑنے کا عزم نہ ہو ، اس وقت تک کی انشاے سفر سے وطن اقامت باطل نہ ہو گا۔

           لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص وطن ِاقامت سے سفر شرعی پر نکلے مگر اس کا ضروری سامان وطنِ اقامت میں ہو اور اس وطن کو ترک کرنے کا ارادہ نہ کیا ہو تو اس سے وطن اقامت باطل نہیں ہوتا، بلکہ دوبارہ آنے کے بعد بھی وہ مقیم شمار ہو گا۔

وطن الإقامة ينتقض بالوطن الأصلي...وينتقض بالسفر أيضا لأن توطنه في هذا المقام ليس للقرار ولكن لحاجة فإذا سافر منه يستدل به على قضاء حاجته قصار معرضا عن التوطن به فصار ناقضا له دلالة.(بدائع الصنائع، كتاب الصلوة،فصل في بيان ما يصير به المسافر مقيما، ج: 1،ص:498)


فتویٰ نمبر : 9059/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں