بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے کا تھوک نگلنا


سوال

کیا میاں بیوی ہمبستری کے دوران ایک دوسرے کا تھوک نگل سکتے ہیں ؟

جواب

               واضح رہے کہ انسان کا لعاب دہن (تھوک) پاک ہے،جب تک اس کے منہ میں کوئی  ظاہری نجاست نہ ہو،لہذا میاں بیوی اگر ہمبستری کے دوران ایک دوسرے کا تھوک نگل لے تو اس میں کوئی قباحت نہیں،تاہم اگر کوئی شخص روزہ کے دوران بیوی کا بوسہ اس طرح لے کہ اس کا تھوک منہ میں آجائے تو اس کاروزہ مکروہ ہوگااور اگر نگل لے گا تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔ اگر عمداً نہ نگل لے، بلکہ بلااختیار حلق میں چلاجائے تو روزہ ٹوٹ جائےگا قضا ہو گی،کفارہ نہیں۔

 

(وسؤر الآدمي والفرس وما يؤكل لحمه طاهر) فأما الآدمي فلأنه صلى الله عليه وسلم شرب اللبن وعن يمينه أعرابي وعن يساره أبو بكر ثم أعطى الأعرابي فقال الأيمن فالأيمن ولأن لعابه متولد من لحم طاهر فيكون طاهرا مثله ولا فرق بين الطاهر والجنب والحائض والنفساء والصغير والكبير والمسلم والكافر والذكر والأنثى۔(تبین الحقائق شرح کنز الدقائق،کتاب الطھارۃ،ج:1،ص:31)

ومنہ أی من موجب الکفارۃ ابتلع بزاق زوجتہ أو بزاق صدیقہ لأنہ یتلذذ بہ۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص:667)


فتویٰ نمبر : 4962/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں