بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک عورت كا دعوائے رضاعت كرنا


سوال

میری بڑی بہن  نے میرے دو بیٹوں کو  دودھ دیا ہے جس کا وہ اقرار بھی کرتی ہے ، مگر میری والدہ  نے کہا تھا  کہ اس نے  تمہاری  بیٹی کو بھی دودھ دیا ہے اور اب وہ  فوت ہوچکی ہے، لیکن میری بہن کہتی ہے کہ میں نے اس کو دو دھ نہیں دیا ہے  تو کیا اب میری بیٹی کا نکاح میری اس بہن کے بیٹے کے ساتھ جائز ہے؟

جواب

       ثبوت رضاعت کے لیے دو عادل آدمیوں یا ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی ضروری ہے ۔ تا ہم اگر   ایک مرد یا عورت کے دعویٰ  سے غالب گمان اس کی سچائی کا ہوتا ہو تو نکاح سے پہلے اس پر اعتماد کرتے ہوئے شادی سے احتراز بہتر ہے۔

       صورت مسئولہ میں محض  ایک عورت کی گواہی  کااعتبارنہیں ،لہذا سائل کی  لڑکی  کا نکاح اس کے بھانجے   کے  ساتھ جائز  ہے۔

ولا يجوز شهادة  امرأة واحدة على الرضاع أجنبيه كانت، أو أم أحد الزوجين، فإن وقع في قلبة صدق المخبر، فالأفضل أن يتنزه قبل العقد وبعده يسعها المقام معه،حتى يشهد  على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان  عدول، ولا يقبل شهادة النسآء وحدهن۔(خلاصة الفتاوى، كتاب النكاح، الفصل الرابع في الرضاع، ج:2،ص:11)


فتویٰ نمبر : 6384/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں