بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

وصول کئے جانے والے قرض پر زکوۃ


سوال

زیدکےقبضےمیں تین لاکھ روپےہیں،جن پرسال گزرنےکوایک مہینہ باقی ہے،اب زیدنےاپنی ضروریات کےلیےزمین  پانچ لاکھ روپے پرفروخت کردی،لیکن وہ پانچ لاکھ روپےپانچ مہینےبعدوصول کرےگا،توکیااس کےپاس تین لاکھ روپےپرایک مہینہ گزرنےکےبعداس پانچ لاکھ روپےکی زکوۃکی ادائیگی بھی واجب ہوگی یانہیں؟

جواب

        واضح رہےکہ اگرکسی کامال کسی دوسرےشخص کےپاس قرض کےطورپرموجودہو،اوروہ اس کااقراربھی کرتاہو،توایسی صورت میں اس مال پرسال گزرنےکےبعدزکوۃ فرض ہوتی ہے،البتہ اس کی ادائیگی تب واجب ہوگی،جب قرض وصول کیاجائے۔

       صورتِ مسؤلہ کےمطابق زیدپرشرعا وصول کیےجانےوالےپانچ لاکھ روپےقرض کی زکوۃلازم ہے،البتہ اس کی ادائیگی تب واجب ہوگی،جب قرض وصول ہوجائے،یعنی نصاب پرسال گزرنےکےبعدجب بھی قرض وصول ہوجائے،تواس پرزکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔نیزقرض وصولی سےپہلےبھی زکوۃ اداکرسکتاہے۔

(و)اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة قوي ومتوسط وضعيف،ف(تجب)زكاتهاإذاتم نصابا،وحال الحول،لكن لا فورا،بل(عند قبض أربعين درهما من الدين)القوي كقرض(وبدل مال تجارة)فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم.(الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،باب زکوۃالمال،ج3ص337)

ففي الدين القوي لا يلزمه الأداء ما لم يقبض أربعين درهما فإذا قبض هذا المقدار أدى درهما وكذلك كلما قبض أربعين درهما وفي الدين المتوسط لا يلزمه الأداء ما لم يقبض مائة درهم فحينئذ يؤدي خمسة دراهم.(المبسوط للسرخسي، کتاب الزکوۃ،باب زکوۃالمال،ج2ص195)

 


فتویٰ نمبر : 9047/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں