بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نماز کے دوران قے نگلنا


سوال

 نماز پڑھتے ہوئے تھوڑی سی قے منہ میں آئے اور آدمی اس کو نگل لے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

               فقہاء کرام کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نماز کے دوران کسی نے منہ بھر کر قے کو نگل لیا، حالآنکہ وہ اس کے روکنے پر قادر تھا، تو اس سے اس کی نماز فاسد ہوگی، البتہ اگر منہ  کم قے کو نگل لیا، تو امام ابویوسفؒ کے قول کے مطابق نماز فاسد نہیں ہوگی، جب کہ امام محمد ؒ کے قول کے مطابق نماز فاسد ہوگی،اور یہ قول زیادہ احتیاط پر مبنی ہے۔

       إذا قاء ملء الفم تنتقض طهارته ولا تفسد صلاته وإن قاء أقل من ملء الفم لا تنتقض طهارته ولا تفسد صلاته وإن قاء ملء الفم وابتلعه وهو يقدر على أن يمنعه تفسد صلاته وإن لم يكن ملء الفم لا تفسد صلاته في قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وتفسد في قول محمد - رحمه الله تعالى - والأحوط قوله كذا في فتاوى قاضي خان وإن تقيأ فإن كان أقل من ملء الفم لم تفسد صلاته وإن كان ملء الفم تفسد صلاته.( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوٰۃ ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها ، النوع الثانی فی الافعال المفسدۃ للصلوٰۃ، ج:1 ، ص: 161)


فتویٰ نمبر : 9061/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں