بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
کمپنی کی طرف سےملازم کے دوران ڈیوٹی مرنے کی وجہ سے پسماندہ گان کوملنے والی رقم کی تقسیم
سوال
زید سعودی عرب میں ایک کمپنی میں ملازم تھااور دوران ڈیوٹی انتقال فوت ہوا تو کمپنی کی طرف سےکمپنی کے قانون کے مطابق زید مرحوم کے نام کچھ رقم منظور ہوئی ہے تواس رقم کا حق دار کونسے ورثا ہوں گیں؟ میت کے والدین یا اولادیا بیوی یا سب؟
جواب
حادثاتی طور پر یا ڈیوٹی کے دوران ملازم کی موت واقع ہونے کی صورت میں پسماندہ گان کوملنے والی رقم اگر مرحوم کی زندگی میں اس کی جمع شدہ رقم تھی یا اس کی خدمات کے عوض کا کوئی حصہ ہو تو یہ ملازم کا ترکہ ہے لہذا اس رقم میں میراث جاری ہوگی۔جس میں تمام ورثا شریک ہوں گے۔البتہ اگر ملازم کے مرنے کے بعد کمپنی یہ رقم تبرعا دیتی ہے تو یہ عطیہ اور تبرع شمار ہوگی۔اس لیے کمپنی کی قانون کے مطابق جس کوجتنی رقم کا مستحق قرار دیا جائے اس حساب سے یہ رقم تقسیم ہوگی۔اس میں وراثت جاری نہ ہوگی۔لہذا صورت مسئولہ میں متوفی کی موت کے بعد اس کےنام منظور ہونے والی رقم اگر مرحوم کی زندگی میں اس کا حق تھا تو یہ رقم بطور میراث متوفیٰ کے تمام ورثا میں تقسیم ہوگی البتہ اگر یہ رقم کمپنی کی طرف سے عطیہ ہے تو کمپنی کے ذمہ دار افسران سے معلوم کرکے کمپنی کی پالیسی کے مطابق اسے تقسیم کیا جائےگا۔
"العطاء لایورث عنه"(شرح الأشباہ والنظائر، ج:2، ص:495)
"لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته"(بدائع الصنائع،كتاب الحدود، فصل وأما شرائط جواز إقامتها، ج:7، ص:57 )
"الترکة فی اللإصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال"(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:10، ص:493،)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں