بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

داد دینے کے لیے تالیاں بجانا


سوال

کسی پروگرام مثلاً مشاعرہ ،پوزیشن ہولڈر طلباء کو انعامات دینے کے موقع پر  یا کسی قاری و مقرر کو داد دینے کی خاطر تالیا ں بجانا  شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی عمل معاشرہ میں اس طرح عام ہو جائےکہ وہ رسم ورواج بن جائے اور وہ عمل بذات خود شریعت کے اصول واحکام سے متصادم نہ ہو اور کسی حکم کے پامال ہونے کا سبب بھی نہ ہو تو اباحت کے درجے میں شمار ہوکر جائز ہوتاہے،چنانچہ مشاعرہ یاطلباء میں تقسیم انعامات ،وغیرہ کے وقت داد دینے  کے لیے تالیاں بجانا ایک عام عادت بن چکی ہے ،اگر چہ تالیاں بجانامغربی تہذیب کاحصہ ہے،لیکن یہ ان کامذہبی طرزعمل نہیں ،بلکہ ایک رسم کے درجے میں ہے اورآج کل محض خوشی اور داد دینے کے لیے  تالیاں بجائی جاتی ہیں ،اس وجہ سے  اسے حرام قرارنہیں دیا جاسکتا،البتہ دیندار طبقے کے ہاں چونکہ یہ غیر سنجیدہ عمل ہے، اور دینی مجلسوں میں  معیوب سمجھا جاتاہے اس لیے سنجیدہ  دینی محافل میں اس سے احتراز ہونا چاہیے ۔

 "فكثير من الأحكام تختلف باختلاف الزمان، لتغير عرف أهله، أو لحدوث ضرورة، أو فساد أهل الزمان بحيث لو بقي الحكم على ما كان عليه، للزم منه المشقة والضرر بالناس۔(رسائل ابن عابدین ،ج:2،ص:125)

ان العرف و العادۃ یکون حجۃ  اذا لم یکن مخالفا للنص (دررالحکام،ج:1،ص:47)


فتویٰ نمبر : 4948/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں