بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

"إنما یخشی اللہُ من عبادہ العلماءَ "پڑھنا


سوال

إنما یخشی اللہُ من عبادہ العلماءَ پڑھنا کیساہے؟

 

جواب

          واضح رہے کہ إنما یخشی اللہ من عبادہ العلماء میں لفظ اللہ پر زبر ہے اور العلماء پر پیش ہے اور اس کا معنی ہے اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء اللہ سے ڈرتے ہیں، جبکہ کتب تفاسیرمیں حضرت عمر بن عبدالعزیز اور امام ابوحنیفہؒ  سے منقول  ہے کہ انہوں نے اس آیت میں لفظ اللہ پر پیش اور العلماء پر زبر بھی پڑھا ہے، اس صورت میں یخشی کا معنی ڈرنا نہیں ہوگا بلکہ مجاز بالا ستعارہ کے طور پر اس کا معنی ہوگا عظمت والا بنادینا، یعنی اللہ اپنے بندوں میں سے صرف علماء کو عظمت والا بناتا ہے اور وجہ استعارہ یہ ہے کہ جس شخص کی لوگوں پر ہیبت ہوتی ہے اور لوگ اس سے ڈرتے ہیں وہ لوگوں کے درمیان عظمت والا ہوتا ہے تو گویا اللہ نے علماء کو ہیبت والا بنادیا جن سے لوگ ڈریں اور جس کی لوگوں کے نزدیک ہیبت ہوتی ہے اور لوگ اس سے ڈرتے ہیں وہ ان کے نزدیک معظم اور جلیل القدر ہوتا ہے تو اس تقدیر پر معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف علماء کو معظم اور جلیل القدر بناتا ہے۔

دراصل ان دونوں طرح کے پڑھنے کاحاصل معنی ایک ہے، کیونکہ اگر اس آیت میں یخشی اللہ میں لفظ اللہ پر زبر پڑھی جائے تو اس کا معنی ہوگا کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء اللہ سے ڈرتے ہیں، اور اللہ سے ڈرنے والے متقی ہیں اور جو اللہ سے ڈرنے والے اور متقی ہیں وہی اللہ کے نزدیک معظم اور مکرم ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (إِنَّ ‌أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡۚ ) (الحجرات: ١٣) بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے مکرم وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ پس اس کا خلاصہ یہ ہے کہ علماء اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معظم اور مکرم ہیں اور اگر اس آیت میں لفظ اللہ پر پیش اور العلماء پر زبر پڑھی جائے تب بھی اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف علماء کو معظم اور جلیل القدر بناتا ہے۔

         صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ آیت میں   لفظ اللہ پر پیش اور العلماء پر زبر پڑھنا  مجاز بالا ستعارہ کے طور پرمعنی کے لحاظ سے توٹھیک ہو سکتا ہے لیکن چونکہ علماءقراءت سے یہ قراءت منقول نہیں ، اس لیےتلاوت کرتے وقت اس طرح پڑھناجائز  نہیں بلکہ لفظ اللہ کے زبر اور العلماءکے پیش کے ساتھ پڑھنا لازم ہیں۔

 

فإن قلت: فما وجه قراءة من قرأ إِنَّما يَخْشَى اللَّهُ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءَ وهو عمر بن عبد العزيز ويحكى عن أبى حنيفة؟ قلت: الخشية في هذه القراءة استعارة، والمعنى:إنما يجلهم ويعظمهم، كما يجل المهيب المخشى من الرجال بين الناس من بين جميع عباده إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ تعليل لوجوب الخشية، لدلالته على عقوبة العصاة وقهرهم وإثابة أهل الطاعة والعفو عنهم، والمعاقب المثيب: حقه أن يخشى. (تفسير الزمخشري الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل، سورة فاطر:  الآيات ٢٩ إلى ٣٠، ج:3، ص:611)


فتویٰ نمبر : 9081/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں