بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

سورۃ کہف کی دو آیات کے درمیان رفع تعارض


سوال

 سورة الکہف کی آیت﴿فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَباً﴾سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر مچھلی کو کھانے اور بھوک مٹانےکی نیت و غرض سے ساتھ لے گئے تھے جبکہ اگلی آیات﴿قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصاً﴾﴿فَوَجَدَا عبد اً مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْماً﴾ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی کو کھانے کی نیت سے ساتھ نہیں لے  گئے تھے بلکہ اس کو ساتھ لینے سے غرض حضرت خضر علیہ السلام سے متعلق مقام اور جگہ پر مطلع کرنا تھا۔ اب ان دونوں آیات کے درمیان تطبیق کی کیا صورت ہو گی۔

جواب

            حضرت موسىؑ جب حضرت خضر ؑ كى ملاقات كے ليے روانہ ہوئے تو اپنے ساتھ مچھلی لی تھی۔صحیح بخاری کی حدیث میں  اس مچھلی سے متعلق یہ معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالی ہی کی طرف سے یہ حکم ہوا تھا کہ ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ  اور جس جگہ آپ مچھلی کو گم کر دیں وہیں آپ کی  مراد ہوگی۔

              مفسّرین میں سے حضرت ابن عبّاسؓ فرماتے ہيں  کہ یہ بُھونی ہوئی مچھلی کھانے کے لیے رکھی گئی تھی، اور اس سفر کے دونوں ساتھی دورانِ سفر اس میں سے کھاتے بھی رہے۔ اس کا نصف حصّہ کھایا جا چکا تھا۔  پس جب یہ دونوں ساتھی دريا كے كنارے  سفر کرتے کرتے پہنچے  توتھک گئے ، اور  آرام   کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیؑ کے ساتھی نے وہ ٹھوکری رکھ دی اس دوران  سمندر کی لہریں اس مچھلی تک پہنچیں  جس سے بطورِ  معجزہ  مچھلی زندہ ہوئی اور ٹھوکری میں حرکت شروع کر دی جس کی وجہ سے ٹھوکری الٹ گئی اور مچھلی سمندر میں چلی گئی۔

            جبکہ امام ابو العباسؒ کے قول کے مطابق   کھانے کے علاوہ ایک علیحدہ زنبیل میں مچھلی رکھنے کا حکم ہوا تھا، چنانچہ  علیحدہ رکھ لی گئی تھی اور زادِ راہ اس کے علاوہ تھا ۔ اس قول کے مطابق مچھلی بطور علامت ساتھ رکھی تھی ۔ واللہ اعلم

 

قوله تعالى : {آتِنَا غَدَاءَنَا}۔۔۔۔۔۔۔واختلف في زاد موسى ؛ فقال ابن عباس : كان حوتا مملوحا في زنبيل ، وكانا يصيبان منه غداء وعشاء ، فلما انتهيا إلى الصخرة على ساحل البحر ، وضع فتاه المكتل ، فأصاب الحوت جري البحر فتحرك الحوت في المكتل ، فقلب المكتل وانسرب الحوت ، ونسي الفتى أن يذكر قصة الحوت لموسى. وقيل : إنما كان الحوت دليلا على موضع الخضر لقوله في الحديث : "أحمل معك حوتا في مكتل فحيث فقدت الحوت فهو ثم" على هذا فيكون تزودا شيئا آخر غير الحوت ، وهذا ذكره شيخنا الإمام أبو العباس واختاره. ( الجامع لاحکام القرآن، ج11،ص139)


فتویٰ نمبر : 4940/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں