بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/10/2026

دارالافتاء

 

بیع مؤجل میں ثمن کی ادائیگی کا وقت متعین نہ کرنا اور مشتری کو ادائیگی تک مبیع میں تصرف سے روکنا


سوال

ایک شخص نے دوسرے شخص کو چالیس لاکھ روپے کے عوض ایک گھر فروخت کیا، جس میں پچیس لاکھ نقد وصول کیے اور پندرہ لاکھ ابھی باقی ہیں، جس کے  دینے کا وعدہ مشتری نے غیر معین مدت تک کیا ہے، اب بائع کہتا ہے کہ اس گھر پر مشتری کو قبضہ نہیں دوں گا، اور اس کے منافع خود وصول کروں گا، تو کیا مشتری کو گھر کا قبضہ نہ دینا اور بائع کا خود اس کے منافع حاصل کرنا جائز ہے؟ نیز کیا مشتری اس گھر میں کوئی مالکانہ تصرف کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

               جب خرید و فروخت کے معاملہ میں ثمن کا ادھار ہونا متعین ہوجائے، تو اس کی ادائیگی کے لیے کوئی خاص مدت متعین کرنا لازم ہوتا ہے، چنانچہ اگر کوئی مدت متعین نہ کی جائے یا مجہول مدت متعین کی جائے تو بیع فاسد ہوگی، اور بیع فاسد میں جب تک بائع نے مشتری کو مبیع پر قبضہ نہ دیا ہو تو مشتری کو مبیع پر ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔ نیز نقد بیع میں بائع کو قیمت کی وصولی تک مبیع کو اپنے پاس روکنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن بیع مؤجل (ادھار بیع) میں بائع اپنے اس اختیار کو ساقط کر دیتا ہے، اس لیے اس کو مبیع اپنے پاس روکنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

            لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق غیر معین مدت تک قیمت کی ادائیگی مؤخر کرنے کی وجہ سے یہ بیع فاسد ہے، اس لیے اگر واقعی بائع نے ابھی تک مشتری کو مبیع (گھر) پر قبضہ نہ دیا ہو تو مشتری اس کا مالک نہیں بنا ہے، لہٰذا بائع کے لیے مبیع اپنے پاس رکھنا اور اس سے انتفاع حاصل کرنا شرعا جائز ہے۔مشتری کے لیے اس میں مالکانہ تصرف کرنا جائز نہیں۔

          اس عقد کو صحیح کرنے کے لیے عاقدین کو چاہیے کہ وہ از سر نو عقد کر کے نقد بیع کریں یا اگر ادھار بیع کرنی ہو تو قیمت کی ادائیگی کے لیے وقت متعین کریں۔ ادھار بیع کی صورت میں  بائع کو قیمت کی وصولی تک مبیع اپنے پاس روکنے اور اس سے انتفاع کا اختیار حاصل نہ ہوگا۔

 

وأما شرائط الصحة فعامة وخاصة...فإن الفاسد عندنا منعقد نافذ إذا اتصل به القبض ...وأما الخاصة فمنها معلومية الأجل في البيع بثمن مؤجل فيفسد إن كان مجهولا. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الأول، في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج:3،ص:6).

قال أصحابنا رحمهم الله تعالى للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالا كذا في المحيط وإن كان مؤجلا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الرابع في حبس المبيع بالثمن، ج:3،ص:146)

ولكل واحد من المتعاقدين فسخه رفعا للفساد وهذا قبل القبض ظاهر لأنه لم يفد حكمه فيكون الفسخ امتناعا منه. (الهداية، كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:5،ص:133)


فتویٰ نمبر : 2990/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں