بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پنشن کےمستحق ہونےکےبعدزندگی میں اس پر قبضہ نہ پانا


سوال

میرابیٹافوج میں ملازم تھا۔دورانِ ملازمت کینسرکامریض ہوگیا۔کافی علاج کےبعدفوج کی طرف سے 2020/ 09/ 02ءکو اس کا میڈیکل بورڈہوگیا،اوراس کےعوض اس کوپنشن اوراکھٹی رقم ملنامشکل تھی جوکہ مبلغ چوبیس لاکھ/ 2400000بنتی تھی ،جس کووہ اپنی زندگی میں وصول نہ کرسکا،اور13/11/2020ء کواس کاانتقال ہوگیا۔اس کےبعد مذکورہ رقم کاچیک اس کی بیوی کےنام موصول ہوا۔ نیزاس نےاپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ میرےمال کا٪75میری بیوی کواور٪25 میری والدہ کوملے۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ میرےبیٹےکامال شرعی قانون وراثت کےمطابق تقسیم ہوگایابیٹےکی وصیت کےمطابق؟نیزپنشن اورموت کےبعددیگرملنےوالی رقم کے حوالےسےشریعت کاکلی ضابطہ اوراصول کیاہےکہ وہ عطیہ ہوتی ہےیاترکہ؟

جواب

            شرعی نقطۂ نظرسےموت کےوقت میت کاوہ سارامال وجائیدادترکہ شمارہوتاہےجواس کی ملکیت میں ہو یاکم ازکم وہ اس کامستحق ہوچکاہو،اگرچہ کسی مجبوری کی بناپرزندگی میں اس پرقبضہ نہ کرسکاہو۔

             صورتِ مسئولہ کےمطابق پنشن میں سےوہ رقم جودورانِ ملازمت میت کی تنخواہ سےکاٹی گئی تھی ،اسی طرح وہ رقم بھی جس کا وہ زندگی میں مستحق ہوچکاتھا،البتہ انتطامی امورکی وجہ سےوہ اپنی حیات میں اس پرقبضہ نہ کرسکاتھاتووہ تمام رقم ترکہ شمارہوگی اورتمام ورثااس میں اپنے شرعی حصہ کے بقدر حق دارہوں گے۔ اس کےعلاوہ جومزیدرقم حکومت نے اپنی طرف سےکسی وارث کےنام جاری کی ہوتووہ چونکہ حکومت کی جانب سےاس وارث کوعطیہ ہے،اس لیےوہ صرف اسی کاحق ہے،دوسرےورثاکااس میں حصہ نہیں بنتا۔

          جہاں تک میت کااپنی بیوی اورماں کےلیے وصیت کرنےکاتعلق ہےتوچونکہ ماں اوربیوی دونوں شرعی وارث ہیں ،اوروصیت ورثاکے حق میں درست نہیں ہوتی،اس لیے یہ وصیت درست نہیں،البتہ اگردیگرورثااپنی رضامندی سےاس کی اجازت دےدیں توپھرماں اوربیوی کےحق میں بھی وصیت نافذ ہوگی،اورمذکورہ رقم حسبِ وصیت ان کےدرمیان تقسیم ہوگی۔

 

لأن التركة فى الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير.... واعلم أنه يدخل فى التركة الدية الواجبة بالقتل الخطأ، أو بالصلح عن العمد، أو بانقلاب القصاص مالا بعفو بعض الأولياء، فتقضى منه ديون الميت، وتنفذ وصاياه كما في الذخيرة.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الفرائض،10/493، دارالکتب العلمية)

ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه....إلا أن تجيزها الورثة.(الهداية، كتاب الوصايا، ج:4، ص:639-640، رحمانية)


فتویٰ نمبر : 4944/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں