بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قضا نمازیں ہوتے ہوئے نفل نماز پڑھنا


سوال

 کیا قضا نماز کے رہتے ہوئے نفل نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

             نماز ایک اہم عبادت ہے جس کو بلاعذر شرعی اپنے وقت سےمؤخر کرنا جائز نہیں، تاہم اگر کسی سے فرض نمازیں چھوٹ جائیں، تو اس کے لیے نوافل میں مشغول ہونے کی بجائے جلد از جلد اس کی قضا لوٹانا بہتر ہے، البتہ قضا نمازیں لوٹانے کے لیے  سنن مؤکدہ اور تراویح کو ترک نہیں کرنا چاہیے ۔

          صورت مسئولہ میں اگر کسی شخص کے ذمے قضا نمازیں باقی ہوں، تو  اس کے لیے نوافل پڑھنا جائز ہے، البتہ سنن مؤکدہ اور تراویح کے علاوہ دیگر نوافل کی بجائے فرض نمازوں کی قضا لوٹانا بہتر ہے۔

 

(ويجوز تأخير الفوائت) وإن وجبت على الفور... وقال العلامة ابن عابدين: وأما النفل فقال في المضمرات: الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة. (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلوة، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصية بالختمات والتهاليل، ج:2،ص:536)


فتویٰ نمبر : 9060/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں