بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

دستاویزات میں انتقال سے ہبہ کا حکم


سوال

میری والدہ نے اپنی زندگی میں انتقال سے دو سال قبل زمانہ صحت میں میرے نام  گھر کا انتقال کرکے ہبہ کر دیا تھا۔ اب کیا یہ گھر میرا شمار ہوگایا نہیں اور اس میں والدہ کے انتقال کے بعد دیگر ورثابھی میرے ساتھ شریک ہوں گےیا نہیں؟

جواب

              شرعی نقطہ نظر سے مکان یا زمین  کسی کے نام صرف انتقال کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوتا بلکہ ہبہ کے تام ہونے کی شرائط  میں سے  ایک شرط یہ بھی ہے کہ موہوب لہ( جس کو یہ چیز ہبہ کیا گیا ہو)کو ہبہ شدہ چیز پر قبضہ یا مکمل تصرف کا اختیار دیا جائے۔

             صورت مسئولہ میں اگر والدہ نے اپنی زندگی میں گھر کو سائل کے نام انتقال  کرکے اس کا قبضہ اور مالکانہ تصرف کے اختیارات بھی سائل کو دیے تھے  تو یہ گھر والدہ کی ملکیت سے نکل کر سائل کی ملکیت میں شمار  ہو گا،لیکن اگر والدہ نے اپنی زندگی میں سائل کے نام  گھر کا انتقال تو کیا تھا مگر قبضہ نہیں دیا  تھا،تو یہ گھر بدستور والدہ کی ملکیت ہو گا،اور والدہ کی  وفات کے بعد  تمام ورثا  اس میں حصہ دار ہوں گے ۔

 

لأن اللام للتمليك بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة(وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة۔(ردالمحتار على درالمختار، كتاب البهة، ج:5، ص:689،دارالكتب العلمية بيروت)

لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار۔(الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الثانى فيما يجوز من الهبة ومالا يجوز، ج:4، ص:378، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 4938/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں