بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

"درودِ تنجینا"کاثبوت


سوال

بعض لوگ"درودِ تنجینا"کوعام کررہےہیں،توکیاکسی حدیث میں اس کاذکرموجودہےیانہیں۔اوردوسرےمسنون دعاؤں اوردرودوں کےمقابلےمیں مصائب دفع کرنےکےلیےاس کوترویج دیناشرعاکیساہے؟

جواب

            واضح رہےکہ دعااوردرودمیں افضل اوربہتروہ دعااوردرودہوتےہیں،جن کےالفاظ قرآنِ کریم یااحادیثِ شریفہ میں منقول ہوں،لہذامصائب دفع کرنےکےلیےوہ دعائیں پڑھنی چاہیے،اورجہاں تک"درودِ تنجینا"کےثبوت کاتعلق ہے،توہمیں اس درودکاثبوت احادیث میں نہیں ملا،لیکن چونکہ اس کےمعانی درست ہیں،قرآن وحدیث سےمتعارض نہیں،اس لیےاس کےپڑھنےکی گنجائش ہے،تاہم جو دعائیں یقینی طورپراحادیث سےثابت ہوں،ان  دعاؤں کااہتمام کرناچاہیے۔

 

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو عند الكرب يقول:لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب السموات والأرض، ورب العرش العظيم."(الصحیح للبخاري،کتاب الدعوات،باب الدعآءعندالکرب،ج2ص939)

"عن أنس بن مالك، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كربه أمر قال:يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث."(الجامع للإمام الترمذي،ابواب الدعوات،ج2ص268)


فتویٰ نمبر : 4941/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں