بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

باغ کو کئی سال تک مساقات پر دینا


سوال

باغ کو کئی سال (یعنی 5 یا10 ) کےلیے مساقات پر دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ 2.منافع معلوم رقم رکھا جاسکتا ہے (جس پر دونوں فریقین راضی ہوں) یا حصہ معلوم کرنا ضروری ہے جیسے ثلث، نصف وغیرہ؟ برائے کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں بتائیں کہ یہ معاملہ کس طرح درست ہوگا؟

جواب

           واضح رہےکہ مساقات کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مدت متعین کی جائےاگرچہ وہ لمبی کیوں نہ ہو،تاہم ضروری ہے کہ اس وقت تک درخت باقی رہیں ۔ اسی طرح مالک یاعامل کو جو حصہ دیاجائے وہ طے شدہ اور معلوم ہومثلا تہائی یاچوتھائی وغیرہ،چنانچہ اگرعامل یا مالک کو مخصوص صاع(مثلا دس یابیس صاع)دینے کامعاہدہ ہو تو جائز نہیں کیو نکہ ہوسکتا ہے کہ سارا پھل اتنی ہی مقدار میں ہو۔اسی طرح اگر مساقات میں کام کرنے والے  کے لیے متعین رقم مقرر کی گئی تویہ بھی جائز نہیں کیونکہ ہوسکتا ہےکہ حاصلات  کی مقدار مقررہ رقم کے مساوی نہ ہو،لہذا  منافع معلوم رقم رکھنا درست نہیں بلکہ حصہ معلوم متعین کرنا ضروری ہے۔

 

وشرط المدة قياس فيها لأنها إجارة معنى كما في المزارعة. وفي الاستحسان: إذا لم يبين المدة يجوز ويقع على أول ثمر يخرج، لأن الثمر لإدراكها وقت معلوم وقلما يتفاوت ويدخل فيما ما هو المتيقن،۔(الهداية،كتاب المساقات،ج:4،ص:60)


فتویٰ نمبر : 3079/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں